.

بھارت: سکھ مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں، دو ہلاک

سکھ برادری کے فرید کوٹ اور موگا میں دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی ریاست پنجاب کے ضلع فرید کوٹ میں سکھ برادری کے افراد اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں دو افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

فرید کوٹ اوراس کے نواحی ضلع موگا میں سکھ اپنی مقدس مذہبی کتاب گرو گرنتھ صاحب کی بے حرمتی کے خلاف گذشتہ دو روز سے احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔فرید کوٹ کے ایک گاؤں برگڑی میں سوموار کے روز ایک گوردوارے کے باہر گروگرنتھ صاحب کے ایک سو سے زیادہ پھٹے ہوئے اوراق ملے تھے۔اس مقدس کتاب کو مبینہ طور پر اسی گوردوارے سے جون میں چوری کر لیا گیا تھا۔

ضلع فریدکوٹ کے سب سے بڑے شہر کوٹکاپورہ سے دس کلومیٹر دور واقع ایک گاؤں وائی گھل کلاں میں بدھ کے روز اس واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے سکھوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا تھا اور ان پر پانی پھینکا تھا۔جھڑپوں کے دوران بٹھنڈہ کے انسپکٹر جنرل پولیس بھی زخمی ہوگئے ہیں۔پولیس نے پُرتشدد مظاہروں کے الزام میں سکھ رہ نماؤں بھائی رنجیت سنگھ ڈھاڈریاں والے ،بھائی امریک سنگھ اجنالا ،پنتھ ہریت سنگھ ،جسکرن سنگھ کہان سنگھ والا اور پرمیشر دوار ٹرسٹ ،نیر ویرخالصہ جتھا ،اِک نور خالصہ فوج کے ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔

ادھر پولیس نے پنجاب کے ضلع لدھیانہ میں سکھ برادری کے پچھہتر ارکان کو اندیشہ نقضِ امن کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔پولیس کو خدشہ تھا کہ وہ شاہراہوں کو بند کرسکتے ہیں اور گڑبڑ پھیلا سکتے ہیں۔

منگل کے روز ضلع موگا کے گاؤں بٹرکلاں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں انیس افراد زخمی ہوگئے تھے اور پولیس نے سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے قریباً دوسو مظاہرین کو گرفتار کر لیا تھا لیکن بعد میں انھیں رہا کردیا گیا تھا۔

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل اور ان کے نائب سکھبیر سنگھ بادل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پُرامن رہیں۔انھوں نے لوگوں کو یقین دلایا ہے کہ مقدس کتاب کی بے حرمتی کے واقعے میں ملوّث افراد سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ضلع فرید کوٹ میں کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔