.

ترکی: شامی کردوں کی حمایت پر امریکی اور روسی سفیر طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی وزارت خارجہ نے انقرہ میں تعینات امریکا اور روس کے سفیروں کو طلب کیا ہے اور انھیں شام میں کرد جنگجوؤں کو داعش کے خلاف لڑائی کے لیے اسلحہ مہیا کرنے پر انتباہ کیا ہے۔

ایک ترک عہدے دار نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''امریکی اور روسی سفیروں کو گذشتہ روز (منگل کو) وزارت خارجہ طلب کیا گیا تھا اور انھیں ترکی کے کرد جماعت پی وائی ڈی (متحدہ جمہوری پارٹی) کے بارے میں نقطہ نظر سے آگاہ کردیا گیا ہے۔اس کے علاوہ انھیں ضروری انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے''۔

ترکی پی وائی ڈی کو علاحدگی پسند کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی شامی شاخ ہی قراردیتا ہے۔پی کے کے ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں سنہ 1984ء سے علاحدگی کے لیے مسلح جدوجہد کررہی ہے اور جولائی کے بعد کرد جنگجوؤں نے ایک مرتبہ پھر ترک سکیورٹی فورسز پر اپنے حملے تیز کردیے ہیں۔

امریکا کی قیادت میں اتحاد نے حال ہی میں شام کے شمالی علاقے میں داعش مخالف باغی گروپوں کے لیے طیاروں کے ذریعے اسلحہ اور گولہ بارود گرایا ہے اور جہادیوں کے خلاف لڑنے والوں کے لیے اپنی فوجی امداد میں اضافہ کردیا ہے۔

امریکی اتحادیوں کی اس نئی مشق سے ایک ہفتہ قبل ہی پینٹاگان نے اعتدال پسند شامی باغیوں کو تربیت دینے کے متنازعہ پروگرام پر عمل درآمد روکنے کا اعلان کیا تھا۔اس کے بجائے اب اس نے پہلے سے سکرین کیے گئے باغی گروپوں کو اسلحہ مہیا کرنے پر توجہ مرکوز کردی ہے تاکہ انھیں داعش کے خلاف جنگ میں فعال بنایا جاسکے۔

لیکن روس کی شام میں فوجی مداخلت نے داعش مخالف مہم کو پیچیدہ کردیا ہے اور روسی لڑاکا طیارے داعش کے علاوہ صدر بشارالاسد کی وفادار مسلح افواج سے لڑنے والے دوسرے باغی گروپوں کو بھی اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔روس کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے گذشتہ ہفتے پی وائی ڈی کے لیڈر صالح مسلم سے ملاقات کی تھی اور ان سے داعش مخالف جنگ کے حوالے سے تبادلہ کیا تھا۔