.

شام میں ایرانی انقلابی گارڈز کے دو اہلکار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام میں صدر #بشار_الاسد کے مخالفین کے خلاف لڑتے ہوئے ایرانی #پاسداران_انقلاب کے دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاسداران انقلاب کے مقرب سمجھے جانے والے فارسی نیوز ویب پورٹل "پاسیج پریس" نے سرکاری ٹی وی کی رپورٹ نقل کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں شام میں باغیوں سے لڑائی کے دوران ایرانی فوج کے دو اہلکار فرشاد حسونی زادہ اور حمید مختار بند المعروف ابو زھراء ہلاک ہوگئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مقتول فرشاد حسونی زادہ پاسداران انقلاب کی "صابرین" ملیشیا کا سابق کمانڈر رہ چکا ہے۔

صابرین ملیشیا سنہ 2000ء کے بعد تشکیل دی گئی تھی۔ ابتداء میں اس میں شامل جنگجوئوں اور فوجیوں کو #ایران کے شمال مغربی کرد اکثریتی علاقوں میں کردوں کی مزحمت کچلنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ اسی ملیشیا کو پاکستان کی سرحد سے متصل بلوچ اکثریتی علاقوں میں بلوچ علاحدگی پسندوں کے خلاف بھی استعمال کیا گیا۔

جب عراق کے وسیع علاقے پر دولت اسلامیہ "داعش" نے قبضہ کیا تو ایران نے "صابرین" کے جنگجوئوں کو جنرل #قاسم_سلیمانی کی قیادت میں #عراق کی سامراء گورنری میں منتقل کر دیا۔

ایرانی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شام میں حالیہ دنوں میں اپوزیشن کے حملے میں حمید مختار بند المعروف ابو زھراء نامی فوجی بھی ہلاک ہوا ہے۔ ابو زھراء ایران کے عرب اکثریتی علاقے الاھواز میں پاسداران انقلاب کا ریجنل کمانڈر اور عراق ،ایران جنگ میں بھی شامل رہ چکا ہے۔

رپورٹ میں دونوں فوجیوں کے قتل کی تصدیق کی گئی ہے اور بتای گیا ہے کہ دونوں اہلکار 12 اکتوبر کو مارے گئے تھے گر یہ نہیں بتایاگیاکہ آیا نہیں کس مقام پر انہیں قتل کیا گیا۔

شام میں دو ایرانی سینیر فوجیوں کی ہلاکت کی تازہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ شام کےمحاذ جنگ میں شریک ایرانی جنرل حسین ھمدانی پر اسرار طورپر ہلاک ہوگیا تھا۔