.

علی صالح اور حوثی لیڈر کے درمیان 'سرد جنگ'

دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پچھلے ایک سال سے #یمن کے #ایران نواز #حوثی شیعہ گروپ اور سابق منحرف صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار مل کر ملک کی منتخب اور آئینی حکومت کو چلتا کرنے میں کامیاب رہے مگر خود حوثی لیڈر #عبدالملک_حوثی اور منحرف صدر #علی_صالح میں خاموش اور سرد جنگ جاری ہے۔ عبدالملک الحوثی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ موجودہ بغاوت کی تحریک کے 'ہیرو ' وہ خود ہیں جب کہ علی عبداللہ صالح اپنے آپ کو ہی کو 'حقیقی قائد' قرار دینے پر مصر ہیں۔ یوں دونوں کےدرمیان قیادت کے معاملے پر گہرے اختلافات ہیں اور معاملہ اندر ہی اندر سلگ رہے ہیں۔

یمن میں حوثی لیڈر اور علی عبداللہ صالح کے وفاداروں کے درمیان بھی رسا کشی جاری رہتی ہے۔ اس کی تازہ مثال حال ہی میں اس وقت دیکھی گئی جب علی صالح کا ایک ایران اور #حزب_اللہ کی فنڈنگ سے چلنے والے ٹی وی چینل پرانٹرویو نشر ہوا۔ اس انٹرویو میں بھی علی صالح نے خود کو سب سے بڑا رہ نما قرار دیا۔ وہ یہاں تک کہہ گئے کہ موجودہ انقلابی تحریک کو وہی 'لیڈ' کررہے ہیں۔ حوثیوں میں لڑائی کی صلاحیت موجود ہے مگروہ قائدانہ صلاحیتوں سے خالی ہیں۔

علی صالح کے اس انٹرویو ان کے حامیوں اور مخالفین میں الگ الگ رد عمل سامنے آیا۔ حامیوں نے حسب معمول ہوائی گائرنگ اور آتش بازی کی جب کہ حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی کے وفاداروں نے علی صالح کے بیانات پر سخت برہمی اور ناراضی کا اظہار کیا۔

علی عبداللہ صالح کا کہنا ہے کہ حوثی محض جنگجو ہیں، وہ ملک کی قیادت کے اہل نہیں اور نہ ہی وہ مسلح افواج کو کمان کرسکتے ہیں۔ انہوں نے حوثیوں کی جانب سے جاری کردہ ریاستی دستور کوبھی مسترد کردیا۔

علی عبداللہ صالح اور عبدالملک الحوثی کے چاہنے والے ان کی تقریروں اور بیانات کو اپنے اپنے طور پر خوب اچھالتے ہیں۔ 14 اکتوبر 1963ء کو جنوبی یمن کی برطانوی استبداد سے آزادی کی سالگرہ کے حوالے ایک ٹی وی چینل پر حوثی لیڈر عبدالملک حوثی کا بیان نشر کیا گیا۔ ایسے لگ رہاہے کہ علی صالح اور عبدالملک حوثی خود کو قومی لیڈر منوانے کے لیے میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کونیچا دکھانے کی پالیسی پربھی عمل پیرا ہیں مگر آئینی حکومت کے خلاف جنگ دونوں نے مشترکہ طورپر چھیڑ رکھی ہے۔

ایرانی فنڈنگ سے چلنے والے ٹی وی چینلوں پر علی صالح اور عبدالملک حوثی کے الگ الگ بیانات اور ایک دوسرے پر تنقید نے پس چلمن پائے جانے والے اختلافات کا بھانڈن بیچ چوراہے کے پھوڑ دیا ہے۔ علی صالح اور حوثی لیڈر اپنی تقریروں میں ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ تو بنا رہے ہیں مگر انہوں نے لڑائی اور بغاوت کرکے ملک کو جس بدترین انجام سے دوچار کر دیا ہے اس پرذرا غور نہیں کرتے۔

یمن کے تجزیہ نگار انور۔ م ح نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں کو ابھی علی عبداللہ صالح سے پچھلی جنگوں کا بھی حساب چکانا ہے۔ علی صالح حوثیوں کے خلاف چھ جنگیں لڑ چکے ہیں۔ اس لیے ان کے دلوں میں علی صالح کے لیے ہمدردی کا کوئی جذبہ موجود نہیں۔ وہ علی صالح سے انتقام لینے کا بھی موقع ڈھوںڈ رہے ہیں۔ تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے دلوں میں نہ صرف علی صالح کے لیے کوئی جگہ نہیں بلکہ وہ اپنی حریف اخوان المسلمون، آل الاحمر قبیلے کے لیڈروں، صدر عبد ربہ منصور ھادی اور جنرل القوی علی محسن کو بھی دشمن خیال کرتے ہیں کیونکہ حوثیوں کہ بہ قول انہوں نے سابقہ جنگوں میں حوثیوں کے اسلحے کے مراکز پر حملوں کے بعد ان میں لوٹ مار کی تھی۔