.

انقرہ میں بم دھماکوں کے بعد تین اعلیٰ پولیس افسر فارغ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک حکومت نے ہفتے کے روز انقرہ میں دو تباہ کن بم دھماکوں کے بعد تین اعلیٰ پولیس افسروں کو اپنے فرائض میں غفلت برتنے پر برطرف کردیا ہے۔

ترک وزارت داخلہ نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ عظیم انقرہ کے پولیس سربراہ، ان کے انٹیلی جنس چیف اور پبلک سکیورٹی کے سربراہ کو نوکریوں سے فارغ کیا گیا ہے۔ ان کے خلاف یہ کارروائی ناقص سکیورٹی انتظامات کی بنا پرکی گئی ہے۔

قبل ازیں ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے دونوں بم دھماکوں میں مرنے والوں کی یاد میں انقرہ کے سٹی ریلوے اسٹیشن کے سامنے یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔اسی جگہ دو خودکش بمباروں نے کرد نواز کارکنان کی ریلی میں دھماکے کیے تھے جن میں ستانوے افراد ہلاک اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

ترک حکام نے عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش پر ان بم دھماکوں میں ملوّث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔صدر طیب ایردوآن نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی کو ایسے انٹیلی جنس اشارے ملے ہیں جن سے یہ پتا چلتا ہے کہ انقرہ میں بم حملے کا تعلق شام سے ہے جہاں داعش کے انتہاپسندوں نے ترکی کی سرحد کے ساتھ ایک بڑے علاقے پر قبضہ کررکھا ہے۔

صدر ایردوآن نے تسلیم کیا ہے کہ سکیورٹی انتظامات میں بھی سُقم موجود تھے لیکن ان کے بارے میں تفصیل تحقیقات کے بعد جاری کی جائے گی۔انھوں نے دونوں بم دھماکوں کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

ترک حکام شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے سوروچ میں 20 جولائی کو خودکش بم دھماکے اور انقرہ بم حملوں میں مماثلت ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں۔سوروچ میں بم دھماکے میں چونتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے اور دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد ترک فوج نے شمالی عراق میں کرد باغیوں اور شمالی شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے شروع کردیے تھے۔ترک حکومت نے داعش پر اس بم حملے میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔اس حملے میں بھی کرد نواز اور بائیں بازو کے کارکنان کو نشانہ بنایا گیا تھا۔