.

'فحش لباس' پہننے والی مصری عورتوں کے ووٹ ڈالنے پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#مصر کی حکومت نے آئندہ ہفتے سے شروع ہونے والے پارلیمانی #انتخابات کے دوران فحش اور غیر مہذب لباس زیب تن کرنے والی #خواتین کے پولنگ مراکز میں داخلے اور ان کے ووٹ ڈالنے پر پابندی عاید کردی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے انتخابی امور میجر جنرل رفعت قمصان نے #قاہرہ میں ایک بیان میں بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹ ڈالنے کے لیے وضع کردہ قواعد وضوابط میں ووٹروں اور انتخابی عملے دونوں کے لیے باوقار لباس زیب تن کرنے کو لازمی قرار دیا ہے۔ اس لیے تمام شہریوں سے یہ اپیل کی جاتی ہے کہ وہ قومی سماجی روایات کا احترام کرتے ہوئے متنازع لباس پہن کر ووٹ ڈالنے سے گریز کریں۔ انتخابی عملہ تنگ اور فحش لباس پہننے والی کسی بھی خاتون کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کا مجاز ہوگا۔

وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں جمہوری روایات کو فروغ دینے لیے لیے پارلیمانی انتخابات کے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ کوئی 'فیشن شو' یا ثقافتی میلہ نہیں کہ اس میں رنگا رنگ طرز کے لباس پہن کر ان کی نمائش کی جائے۔

جنرل قصمان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے کے پارلیمانی انتخابات کا اعلان 30 اکتوبر اور دوسرے مرحلے کے نتائج کا اعلان 4 دسمبر کوہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں پارلیمانی انتخابات کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ پولنگ سہولیات کے لیے 27 ہزار ذیلی انتخابی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ 11 ہزار اسکولوں کو پولنگ مراکز بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمانی انتخابات میں مجموعی طورپر 55.6 ملین مصری شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

نیز پارلیمانی انتخابات کے تمام مراحل کو شفاف بنانے کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ انتخابی عمل کے دوران 87 مقامی اور غیر ملکی تنظیمیں اور 61 سفارت خانے بھی انتخابات کو مانیٹر کریں گے۔