.

تعز میں یمنی مزاحمت کاروں کے حملے، 15 حوثی ہلاک

جنوبی اضلاع پر باغیوں کے راکٹ حملے، پیش قدمی کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ وسطی شہر تعز میں حکومت نواز فورسز کے حملے میں کم سے کم 15 حوثی باغی ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے ہیں۔

'العربیہ' نیوز چینل کو ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ تعز اور اس کے آس پاس کے مقامات پر باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے جس میں دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

ذرائع کے مطابق اتحادی ممالک کے جنگی جہازوں نے بھی تعز میں علی صالح ملیشیا اور حوثی جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ دوسری جانب تعز کے آزاد کرائے گئے علاقوں پر حوثیوں نے میزائل حملے کیے ہیں تاہم ان میں کسی قسم کے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق حوثی باغیوں نے اپنی عسکری قوت تعز کے جنوبی اضلاع کی جانب منتقل کرنا شروع کر دی ہے۔ الجند کے علاقے میں علی صالح کے وفادار بریگیڈ 22 اور تعز کے ہوائی اڈے کے قریب بھی اتحادی طیاروں نے بمباری کی ہے جس میں متعدد جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

اتحادی طیاروں کی جانب سے تعز کے جنوبی اضلاع کو ایک ایسے وقت میں بمباری سے نشانہ بنایا ہے جب دوسری جانب حوثی باغیوں نے حکومتی فوج کے کنٹرول میں آنے والے علاقوں کی طرف دوبارہ پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ باغیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے ان پر بمباری کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق تعز کے جنوبی محاذوں پر حوثی ملیشیا نے نئی کمک پہنچانا شروع کر دی ہے۔ باغیوں کی کوشش ہے کہ وہ لحج گورنری، ماویہ اور الوازعیہ کے مقامات پر دوبارہ قبضے کے لیے حملہ کر دیں۔ اسی مقصد کے لیے باغیوں نے لحج کے مختلف مقامات پر کاتیوشا میزائل سے حملے کیے ہیں۔

حوثی ملیشیا کے نئے مسلح دستوں کو منحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کی فوج کی جانب سے لاجسٹک معاونت بھی حاصل ہے۔ جنگجو لحج اور اس سلے متصل علاقوں سے ہوتے ہوئے عدن تک رسائی کی کوشش کر رہے ہیں۔ حوثیوں نے الضالع گورنری کے شمالی علاقوں بالخصوص اِب شہر میں دوبارہ محاذ کھولنے کی بھی سازشیں شروع کر دی ہیں۔