.

تہران میں امریکیوں کو پناہ دینے والے کینیڈین سفیر کا انتقال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران میں 1979ء میں طلبہ کے امریکی سفارت خانے پر حملے کے وقت بعض امریکی سفارت کاروں کو پناہ دینے والے کینیڈا کے سابق سفیر کین ٹیلر انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر اکاسی برس تھی اور ان کے دلیرانہ کردار پر ہالی ووڈ نے ''آرگو'' کے نام سے فلم بھی بنائی تھی جو بہت مقبول ہوئی تھی۔

کینیڈا کے وزیراعظم اسٹیفن ہارپر نے جمعرات کو ان کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور کینیڈا کے سفارتی محاذ پر ان کی شانداز خدمات پر انھیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

یادرہے کہ نومبر1979ء میں جب ایرانی کے انقلاب نواز طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بولا تھا تو ٹیلر اور ان کے ساتھی ایک اور کینیڈین سفارت کار نے چھے امریکی سفارت کاروں کو اپنے گھروں میں پناہ دی تھی۔ ایرانی طلبہ نے سفارت خانے پر حملے کے بعد باون امریکیوں کو یرغمال بنا لیا تھا اور انھیں 444 روز تک اپنے زیرحراست رکھا تھا۔

تہران میں کین ٹیلر اور دوسرے سفارت کار کے گھروں میں پناہ لینے والے امریکی سفارت کار تین ماہ کے بعد ایران سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ہوا یہ تھا آنجہانی ٹیلر اور ان کے ساتھی نے تین ماہ تک تو ان امریکیوں کی میزبانی کی تھی اور پھر انھیں کینیڈا کے جعلی پاسپورٹس کے ذریعے ایران سے بھاگنے میں مدد دی تھی۔

ٹیلر کے بیٹے ڈوگلس نے کینیڈا کے سرکاری نشریاتی ادارے سی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''میرے والد یہ کہا کرتے تھے کہ ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ بھی یہی کام کرتا''۔واضح رہے کہ امریکی کانگریس نے سفیرٹیلر کو اپنے چھے سفارت کاروں کو بچانے کے لیے دلیرانہ اقدام پر طلائی تمغے سے نوازا تھا۔

ہالی ووڈ کے اداکار ،ہدایت کار بن ایفلک نے اس واقعے سے متاثر ہوکر سنہ 2012ء میں ''آرگو'' کے نام سے فلم بنائی تھی۔تاہم بعض کینیڈی شہریوں کا کہنا تھا کہ اس فلم میں ان کے سفارت کاروں کے کردار کو گھٹا کر پیش کیا گیا تھا جبکہ سی آئی اے کے ایجنٹ ٹونی مینڈیز کا کردار بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا اور انھیں اسٹار بنا دیا گیا تھا۔