.

داعش فی کس بھرتی پر 10 ہزار ڈالر تک ادا کرتی ہے: یو این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق اور شام میں سرگرم انتہاپسند گروپ دولت اسلامیہ 'داعش' اپنے حامیوں کو عراق وشام میں جہاد کے لئے بھرتی کرنے والوں کو فی ریکروٹ دس ہزار ڈالر تک رقم دیتے ہیں۔

عالمی ادارے سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے یہ بات بیلجئیم کے دورے کے بعد کہی جس کے کئی شہری عراق اور شام میں جاری تنازعے کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ اس معاملے کا مطالعہ کرنے والے یو این گروپ کی چئیرپرسن 'ایلزیبیتا کرسکا' کا کہنا تھا کہ داعش سوشل میڈیا اور غیر رسمی ذرائع کے ذریعے سے بیلجئیم میں نئے کارکنان کو بھرتی کررہی ہے۔

کرسکا کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین کو بلیجئیم کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ عراق وشام میں موجود 500 کے قریب غیر ملکی جنگجوئوں کا تعلق بیلجئیم سے ہے جو کہ کسی یورپی ملک کے حوالے سے سب سے بڑی تعداد ہے۔

کرسکا نے برسلز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق "ہمیں ایسی صورتحال کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ جہاں بھرتی کار نے دو، تین ہزار سے لے کر 10 ہزار ڈالر تک کی رقم کے بدلے لوگوں کو بھرتی کیا ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا "اگر کوئی فرد زیادہ پڑھا لکھا جیسے کمپیوٹر کا علم رکھنے والے یا ڈاکٹر ہوتے تو انہیں زیادہ پیسے دئیے جاتے ہیں۔"

اقوام متحدہ کی ٹیم کے مطابق بیلجئیم میں قائم انتہاپسند گروپ "شریعہ4 بیلجئیم" نے 2010ء میں شام کے لئے ریکروٹوں کی بھرتی کی تھی۔ اب وہ گروپ ٹوٹ چکا ہے اور اس کے اکثر ممبران کو جیل میں قید کی سزا دی جاچکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھرتی کے طریقے بھی تبدیل ہوگئے ہیں۔

کرسکا کا کہنا تھا کہ "پچھلے سال کے دوران بھرتی کا سب سے اہم طریقہ دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ غیر رسمی طریقوں سے رابطے اور سوشل میڈیا ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ "حالیہ دنوں میں اکثر بھرتیاں شام میں موجود دوستوں اور رشتہ داروں کے ذریعے سے ہوتی ہیں جنہیں روز مرہ کی بنیاد پر ریکروٹوں کی بھرتی اور ریکروٹ کی کارکردگی کا معاوضہ ملتا ہے۔"

کرسکا اور اریاس کا کہنا تھا کہ بیلجئیم سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں یا خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد مشرق وسطیٰ کا رخ کررہی ہے تاکہ وہ جہادیوں سے شادی کرسکیں یا زخمیوں کی دیکھ بھال کرسکیں مگر خدشہ ہے کہ ان میں سے کچھ جنگ میں بھی حصہ لیں۔

ابھی تک بیلجئیم کو چھوڑنے والی خواتین کی کوئی حتمی تعداد سامنے نہیں آئی ہے مگر کہا جاتا ہے کہ جہاد کے لئے جانے والے مردوں کی تعداد پچھلے تین سال کی تعداد ہر ماہ 10 افراد کی روانگی سے کم ہو کر اب چار یا پانچ افراد کی روانگی تک آگئی ہے۔