.

اسرائیلی فوج نے فلسطین میں تین نوجوان شہید کر ڈالے

نابلس میں حضرت یوسف علیہ السلام کا مزار نذر آتش کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے مختلف شہروں میں جمعہ کے روز تین فلسطینی قابض اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں شہید ہو گئے۔ شہید ہونے والوں کا تعلق نابلس، الخلیل اور غزہ سے تھا۔

غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے بتایا غزہ میں ہونے والے واقعات میں ایک فلسطینی شہری شہید جبکہ 27 زخمی ہوئے جنہیں، براہ راست گولی، ربڑ کی گولیوں اور دم گھنٹے کی شکایت پر ہپستال لایا گیا۔ گذشتہ جمعہ سے غزہ کی پٹی کی شمالی اور مشرقی سرحد پر اسرائیلی فوجیوں سے ہونے والی مدبھڑ میں ابتک 13 شہری شہید اور دو سو زخمی ہوئے ہیں۔

فلسطینی جماعتوں نے آج پھر جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں رہنے والے فلسطینیوں کو القدس اور غرب اردن میں اسرائیلی زیادتیوں کے خلاف مظاہرے اور ریلیاں نکالنے کی اپیل کی ہے۔

'العربیہ' کے نامہ نگار کے مطابق جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں سرحدی باڑ کے قریب اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان تصادم کی صورت پیدا ہو گئی جس کے نتیجے میں مظاہرین زخمی ہوئے جن میں کم سے کم ایک کی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موت واقع ہو گئی۔

غرب اردن سے العربیہ کے نامہ نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے چاقو سے یہودی آبادکار کو ہلاک کرنے کی کوشش کرنے والے فلسطینی نوجوان کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ اسرائیل فلسطینی نوجواںوں کے انفرادی چاقو حملوں کے باعث خوف کی حالت میں ہے اور اسے 'چھریوں کا انتفاضہ' نام دیا جا رہا ہے۔

القدس سے بھی 'العربیہ' کے نامہ نگار نے بتایا کہ صحافی بن کر ایک فلسطینی نے یہودی آبادکار کو چاقو سے ہلاک کرنے کی کوشش کی، تاہم اس واقعہ کی حقیقت معلوم نہیں ہو سکی۔ اسرائیلی پولیس نے جمعہ کے روز بھی مسجد اقصی کا محاصرہ کئے رکھا اور 45 سال سے کم عمر کے افراد کو مسجد نماز جمعہ کے لئے نہیں جانے دیا گیا۔

نامہ نگار کے مطابق القدس میں وقتی سکون کسی بھی وقت دھماکے کے ساتھ تاراج ہو سکتا ہے۔ القدس میں جمعہ کے روز لوگوں کی کم تعداد دراصل اسرائیلی پولیس کے محاصرہ کی وجہ سے تھی۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق 'فلسطینیوں کی چاقوؤں سے حملوں کی انفرادی وارداتوں نے اسرائیلیوں کی رات کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

حضرت یوسف علیہ السلام کا مزار نذر آتش

فلسطین کے شمالی شہر نابلس میں جمعہ کے روز ایک مشتعل ھجوم نے بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبر حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار پر دھاوا بول کر پٹرول چھڑک اسے آگ لگا دی۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کی فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نماز جمعہ کے بعد نقاب پوش مشتعل ھجوم نے حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار اور قبر پر پٹرول بموں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں مزار کو آگ لگ گئی اور اس کا بیرونی حصہ جل کر خاکستر ہو گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز سیکڑوں مشتعل افراد کا ایک ھجوم حضرت یوسف کے مزار کی طرف گیا اور اس نے مزار کے بیرونی احاطے میں پٹرول بم پھینکے جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ آتشزدگی کے بعد فلسطینی سیکیورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور انہوں نے مشتعل افراد کو وہاں سے ہٹایا اور آگ پر قابو پایا۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار پر یلغار کرنے والے کون لوگے تھے؟ عموما اس نوعیت کے شر پسندانہ اقدامات یہودی آبادکاروں کی جانب سے کیے جاتے ہیں جنہیں بعد میں فلسطینیوں کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔

مزار حملہ اور ابو مازن کی مذمت

درایں اثنا فلسطینی صدر محمود عباس نے حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار پر حملے کو بزدلانہ اور خلاف قانون حرکت قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے مزار کو نذر آتش کیے جانے کے افسوسناک واقعے کی فوری تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے۔ صدر عباس نے مزار کو پہچنے والے نقصان کی تلافی اور متاثرہ حصے کی فوری مرمت کا بھی حکم دیا ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کا مزار یہودی مذہب کے پیروکاروں کے لیے مقدس مقام کا درجہ رکھتا ہے۔ یہودی ہرہفتے اس جگہ آتے اور مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ بنی اسرائیل کے جلیل القدر حضرت یوسف علیہ السلام اسی جگہ آسودہ خاک ہیں۔

یو این سیکیورٹی کونسل اجلاس

مقبوضہ بیت المقدس اور دوسرے مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد کے حالیہ واقعات کے بعد صورت حال پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا آج جمعہ کو ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ میں متعیّن سفارت کاروں نے بتایا ہے کہ سلامتی کونسل کے رکن ملک اردن کی درخواست پر یہ ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔اس سے پہلے جمعرات کو عرب سفیروں کے اجلاس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قابض اسرائیلی فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان مسلح جھڑپوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے حالیہ ہفتوں کے دوران اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد میں اضافے پر متعدد مرتبہ تشویش کا اظہار کیا ہے اور انھوں نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ ضبط وتحمل سے کام لیں۔

نیویارک میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صورت حال بہت ہی دھماکا خیز بن چکی ہے۔انھوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد پر قابو پانے کے لیے اپنی ذمے داری پوری کرے۔

اسرائیل نے مختلف شہروں میں عربوں کے ساتھ کشیدگی کے بعد مزید سیکڑوں فوجی تعینات کر دیے ہیں جبکہ مقبوضہ بیت المقدس میں قابض حکام نے عرب آبادی والے علاقوں کے باہر کنکریٹ کی رکاوٹیں کھڑی کرکے فلسطینیوں کی آمد ورفت مسدود کردی ہے اور یہودیوں نے بھی خود کو ڈنڈوں، لوہے کے راڈوں اور دوسرے اسلحے سے مسلح کرنا شروع کردیا ہے۔