.

ماسکو میں روسی اپوزیشن کا صدرکے خلاف احتجاجی مظاہرہ

صدر پوتن کو'قاتل' قرار دینے والی خاتون گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#روس کے صدر مقام #ماسکو میں ہفتے کے روز سیکڑوں افراد نے #شام میں حکومت کی فوجی مداخلت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس دوران صدر ولادی میر #پوتن کو"قاتل" قرار دینے والی ایک خاتون کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ماسکو میں ایک چھوٹے پارک میں کم سے کم 200 افراد جمع ہوئے جنہوں نے اپنی حکومت کی شام میں مداخلت کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین میں بیشتر ماسکو کے مقامی شہری تھے۔ انہوں نے شام میں روسی فوج کے فضائی حملوں کی مذمت پر مبنی کتبے بھی اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین کو چاروں اطراف سے پولیس نے گھیرے میں لے رکھا تھا۔

مظاہرے کی کال اپوزیشن کی سیاسی جماعت "سولیدارنوست" کی جانب سے کی گئی تھی مگر مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں اٹھائے کتبوں پر سیاسی نعروں کے بجائے پرامن نوعیت کے نعرے تحریر کرا رکھے تھے۔

احتجاجی مظاہرے کے دوران "پوتن قاتل ہے" کے نعرے پرمبنی پورٹریٹ لہرانے والی ایک خاتون کو حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے سے قبل پارک کی طرف جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کردی تھی۔ پولیس کو دیکھتے ہی مظاہرین زیادہ پرجوش ہوگئے اور انہوں ںے حکومت کی روس میں مداخلت اور کرپشن کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ "امن کے نام پر بمباری کرنے والوں کو جہنم میں جانا چاہیے"۔

مظاہرے میں شریک 42 سالہ سفیٹلانا کافییٹز نے کہا کہ "ہم جنگوں کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔ ہمارے اپنے مسائل ہیں جن کے حل کی فوری ضرورت ہے۔ ہم معاشی اور سیاسی بحرانوں کا سامنا کررہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کا ہزاروں میل دور کسی ملک میں فوج کشی کا اقدام کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہوسکتا ہے۔

ایک دوسرے شہری 36 سالہ دیمتری ستیبانوف جو ایک کاروباری شخصیت ہیں کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے سابق سوویت یونین کی افغانستان میں فوجی مداخلت کے نتائج موجود ہیں۔ افغانستان میں فوجی مداخلت کو کامیابی قرار دینے والےسوویت یونین کے حصوں بخروں میں تقسیم کو کیوں بھول جاتے ہیں۔ آج ہمارے جتنے بھی مسائل ہیں ان میں سابق سوویت یونین کا افغانستان میں مداخلت بھی ایک اہم سبب ہے۔ آج ہماری حکومت شام میں فوجی مداخلت کرکے ایک نئی حماقت کررہی ہے۔