.

مصر کے پارلیمانی انتخابات میں خواتین ووٹر مردوں سے آگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں پارلیمانی انتخابات کے پہلے مرحلے کا آغاز بروز اتوار ہوا۔ انتخابات کو ملک میں جمہوریت کی بحالی کے سلسلے میں کیا جانے والا آخری اقدام قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بعض ناقدین کی رائے میں حکومتی مظالم نے ان انتخابات کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ ووٹنگ کے پہلے روز مردوں کے مقابلے میں خواتین ووٹروں کی تعداد زیادہ رہی جبکہ پولنگ اسٹیشنز پر نوجوان ووٹر خال خال ہی نظر آئے۔

'العربیہ' کے مطابق ووٹنگ کا پہلا مرحلہ 18-19 اکتوبر جبکہ دوسرا مرحلہ 22-23 اکتوبر کو منعقد ہو گا۔ امیدواروں کو واضح برتری نہ ملنے کی صورت میں انہی کے حلقوں میں انتخابات دوبارہ کرائے جائیں گے۔

یاد رہے مصر میں جون 2012 کو ایک عدالتی حکم کے تحت جمہوری طور پر منتخب ایوان تحلیل کر دیا گیا تھا۔ اس پارلیمنٹ میں اسلام پسند اخوان المسلمون نے بڑی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ مبصرین کی رائے میں عدالتی فیصلے سے معزول صدر حسنی مبارک کے تیس سالہ دور اقتدار کے خاتمہ کے بعد 2011ء کی عوامی تحریک کے مقاصد پورے نہیں ہو سکے۔

اس کے بعد فوجی سربراہ کی حیثیت میں عبدالفتاح السیسی نے اخوان المسلمون کے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو اقتدار سے الگ کر دیا اور ملک کی سب سے پرانی دینی سیاسی جماعت پر پابندی عاید کر دی۔ تنظیم کے ہزاروں ارکان اور 2011 کی عوامی تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ جنرل سیسی نے گذشتہ برس ہونے والے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد سے ملک کی باقاعدہ زمام کار سنبھال رکھی ہے۔

گذشتہ برس ہونے والے صدارتی انتخاب کی مکمل مانیٹرنگ کرنے والے ڈیموکریسی انٹرنیشنل نامی امریکی گروپ نے انہیں "مصریوں کے حقوق، آزادیوں کی توہین قرار دیتے ہوئے رائے دی تھی کہ ایسے اقدامات کئے گئے جن سے حقیقی جمہوری صدارتی انتخاب کی راہ مسدود ہو گئی تھی۔"