.

خلیج میں فرقہ وار انگیخت کا ہتھیار

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انٹرنیٹ کے ذریعے حال ہی میں ایک ویڈیو کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی ہے۔اس میں ایک سعودی نوجوان ایک ٹیکسی ڈرائیور کو محض اس بنا پر سخت سست کہہ رہا ہے کہ اس نے اپنی کار میں ایک مذہبی علامت کی تصویر لٹکا رکھی تھی۔سوشل میڈیا پراس ویڈیو پر تبصرے کرنے والے بہت سے لوگوں نے اس ٹیکسی ڈرائیور کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے حقوق کا دفاع کیا جانا چاہیے۔

اگرچہ یہ واقعہ ایک انفرادی فعل کا نتیجہ تھا لیکن یہ اس امر کی واضح علامت ہے کہ (سعودی اور دوسرے معاشروں میں)سنیوں اور شیعوں میں کامیابی سے کس طرح فرقہ وارانہ تناؤ سرایت کر چکا ہے۔اس واقعے کے ایک روز بعد سعودی پولیس نے ایک بیس سالہ نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔اس نے پانچ شیعہ شہریوں کو قتل کردیا تھا۔اس نے دہشت گردی کی اس کارروائی سے قبل ایک ویڈیو بنائی تھی اور اس کو انٹرنیٹ پر جاری کیا تھا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ داعش سے وابستہ تھا۔

تنازعات سے بھرپورتاریخ کے باوجود خلیج کے لوگ زیادہ تر پُرامن انداز ہی میں اکٹھے رہتے رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ معاملہ آج ہی ایک بڑا چیلنج کیوں بن گیا ہے اور سعودی عرب ،بحرین ،کویت اور اومان کو آج اس کا سامنا ہے۔یقیناً یہ خطے میں برپا ہونے والے حالیہ انقلابات کی پیداوار ہے۔اس سے قبل عراق پر امریکا کی چڑھائی اور ایران میں انقلاب کے نتیجے میں فرقہ وارانہ اثرات پھیلے تھے۔

''سنی'' اور ''شیعہ'' کی اصطلاحوں کے عوام میں مقبول عام ہونے اور ان کے خبروں کی شہ سرخیاں بننے سے قبل یا اس سے پہلے کہ سیاسیات کے محققین مغرب میں ان کے تجزیے کا آغاز کرتے ،شامی رجیم نسلی تنوع کے انتظام کے لیے مشہور تھا۔خاص طور لبنانی معاشرہ تو پورے خطے میں اپنی متنوع نوعیت یعنی مذہب ،فرقے اور نسل کے اعتبار سے ایک منفرد حیثیت رکھتا تھا۔

شام کے مرحوم صدر حافظ الاسد کی پالیسیاں لبنان میں ایک کٹھ پتلی شو کو چلانے پر مبنی تھیں۔انھوں نے نسلی اعتبار سے اس کٹھ پتلی شو کا اس طرح کا انتظام کررکھا تھا کہ جس کو وہ چلا سکیں۔حافظ الاسد لبنانی عوام پر حکمرانی کے علاوہ اسرائیل ،مغرب اور عرب ممالک کے ساتھ معاملہ کاری میں بھی اسی پالیسی کو بروئے کار لائے تھے۔

شام میں اگرچہ تاریخی طور پر کردوں ،ترکمن ،سنیوں،علویوں ،عیسائیوں،دروز اور شیعوں کے درمیان باہمی مخاصمتیں پائی جاتی ہیں مگر صدر حافظ الاسد نے مذہبی اور نسلی کشیدگیوں کو ہوا دینے پر پابندی لگا دی تھی اور جو کوئی بھی اس طرح کے مسائل کا سبب بنتا تھا،اس کے لیے کڑی سزائیں مقرر کی تھیں۔

وہ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ اس طرح کی کشیدگیوں سے ریاست کے لیے خطرات پیدا ہوں گے۔چنانچہ انھوں نے بعث اور عرب قوم پرستی کے اصولوں کا پرچار کیا تھا تاکہ وہ شامیوں کو متحد اور اپنے اقتدار کا استحکام برقرار رکھ سکیں۔

ایران اور شام کی ''برآمدات''

ایران نے حافظ الاسد سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ان کے بیٹے بشارالاسد نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کی تھی۔تاہم وہ بہت جلد لبنان کی سیاسی جدوجہد کے محاذ پر پھسل گئے اور انھوں نے سنی رفیق حریری کے مقابلے میں حزب اللہ کی شیعہ جماعت کو اپنا لیا اور یوں اس کے نتیجے میں خود اپنے لیے ہی اپنا کنواں کھود لیا۔بشارالاسد اور ایرانیوں نے ماضی میں متعدد مرتبہ خلیجی ممالک کو شام اور لبنان میں اپنے اتحادیوں کی فرقہ وار جنگ میں حمایت پر فرقہ وارانہ عصبیت پر مبنی کشیدگی برآمد کرنے کی دھمکی دی تھی۔

ایران دراصل اس محاذ پر بحرین میں فعال تھا کیونکہ وہاں اس نے شیعہ گروپوں کے تبدیلی کے مطالبے کی حوصلہ افزائی کی تھی۔اس نے کویت میں بھی ایسے ہی کیا تھا حالانکہ وہاں شیعہ گروپوں کو میڈیا میں زیادہ پذیرائی اور سیاسی آزادی حاصل ہے۔ایران کی جانب سے سعودی عرب میں شیعہ مذہبی حزب اختلاف کو سرگرمیوں کے لیے رقوم مہیا کرنے کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔یمن میں فرقہ پرست حوثی گروپ کے ظہور میں بھی ایران کا ہاتھ کارفرما تھا۔

خلیج میں عدم استحکام کی کوششیں

ایران اور شام ہی خطے میں فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دینے کے ذمے دار نہیں ہیں بلکہ سنی اخوان المسلمون بھی خلیج اور دوسرے علاقائی ممالک میں یہی کچھ کررہی ہے۔اخوان المسلمون نے ایران اور شام میں فرقہ واریت کو تو انگیخت نہیں دی لیکن اس کے بجائے اس نے سنی انتہا پسندوں کو شیعہ انتہا پسندوں کے مقابل لا کر کھڑا کیا ہے اور اس طرح خلیجی حکومتوں کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس گروپ کا یہ طرزعمل شاید اس کے سیاسی مؤقف کے منافی ہو کیونکہ وہ گذشتہ تیس سال سے زیادہ عرصے سے ایران کی حمایت کررہا ہے۔تاہم درحقیقت یہ سرگرمی اخوان المسلمون کے داخلی کھیل کا حصہ ہے اور اس کا مقصد خلیجی عرب حکومتوں کو کمزور کرنا ہے کیونکہ وہ سیاسی رجیم کے طور پر ایران کے مخالف نہیں ہے۔مثال کے طور مصر میں اخوان المسلمون شیعوں کے خلاف کسی مخالفانہ سرگرمی میں شریک نہیں ہے کیونکہ مصر میں شیعہ بہت قلیل تعداد میں رہتے ہیں۔تاہم اخوان المسلمون وہاں عیسائی قبطیوں کے خلاف جذبات کو بھڑکاتی ہے تاکہ وہ اپنے مخالف صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت کے لیے مسائل پیدا کرسکے۔

خلیج میں فرقہ واریت کو انگیخت دینے کا مقصد یا تو ایران اور شام کے مقاصد کی تکمیل اور خدمات کی بجاآوری کے لیے ہوتا ہے ،جیسا کہ ہم اہل تشیع کی صورت حال سے دیکھ سکتے ہیں یا پھر خلیجی حکومتوں کو کم زور کرنے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے،جیسا ہم اخوان المسلمون اور باغی سلفیوں کے معاملے میں دیکھ رہے ہیں۔اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ خلیجی ممالک اپنی سرزمین پر اس سب کچھ کے رونما ہونے کے باوجود خاموش کیوں ہیں؟

ایک اور سوال یہ ہے کہ وہ اس فرقہ وارانہ جذبات انگیزی اور انگیخت کے خلاف واضح قوانین جاری کیوں نہیں کرتے ہیں ،جیسا کہ سعودی شوریٰ کونسل نے ماضی میں ایسا کرنے کی کوشش کی تھی۔اس نے قبائلی اور فرقہ واریت پر مبنی کشیدگی کو جرم قرار دینے کے لیے قانون نافذ کرنے کی کوشش کی تھی مگر ناکام رہی تھی۔اس طرح کے کسی قانونی اقدام کے بغیر فرقہ وارانہ بنیاد پر کشیدگی پھیلتے ہی رہے گی۔ایرانی اور ان کے اتحادی خلیجی ممالک اور پورے خطے میں یہی تو چاہتے ہیں۔

-------------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔وہ قبل ازیں لندن سے شائع ہونے والے عربی روزنامے الشرق الاوسط کے چیف ایڈیٹَر رہے تھے۔وہ تجربے کار صحافی اور عرب امور کے ایک ماہر تجزیہ کار ہیں۔ ان کے غیر جانبدارانہ مگر جاندار سیاسی تجزیوں کی گیرائی اور گہرائی کے پیش نظر انھیں عرب دنیا کا ایک سرکردہ مبصر مانا جاتا ہے۔تاہم ان کے نقطہ نظر سے العربیہ نیوز چینل کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.