.

اسرائیلی کشتی نے سمندر میں ڈوبتے کئی شامی پناہ گزین بچا لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ حال ہی میں #یونان کے جزیرہ "کاسٹیلوریزو" میں #ترکی کے ساحلی شہر کاش کے قریب کشتی الٹنے سے ایک عراقی اور گیارہ شامی پناہ گزین بحر متوسط میں ڈبتے ہوئے ایک اسرائیلی کشتی نے بچا لیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ویڈیو شیئرنگ ویب سائیٹ "یوٹیوب" پر پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو فوٹیج میں مبینہ طور پر ایک اسرائیلی کشتی میں سوار چند پناہ گزین مرد وخواتین کو دیکھا جاسکتا ہے۔ سماجی کارکنوں اور اسرائیلی اخبارات کا دعویٰ ہے کہ یہ وہی کشتی ہے جس نے بحرمتوسط میں کشتی الٹنے کے نتیجے میں ڈوبتے ہوئے گیارہ شامی اور ایک عراقی باشندے کی زندگیاں بچائیں ہیں۔

ویڈیو فوٹیج میں شامی پناہ گزینوں کی بحر متوسط میں کشتی ڈوبنے کے بعد سمندری لہروں کے تھپیڑے کھاتے ہوئے ایک نوجوان کو اسرائیلی کشتی کے کپتان نے دیکھا تو وہ اس کے پاس گیا۔ کپتان کے پوچھنے پر ڈوبتے پناہ گزین نے بتایا کہ وہ اس کے دیگر ساتھی کشتی الٹنے سے سمندر میں ڈوب گئے ہیں۔ اس نے سمندر میں حادثے کی جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہا وہاں پر اس کا بھائی بھی ڈوب گیا ہے تاہم وہ نہیں جانتا کہ وہ زندہ ہے یا ڈوب کر مرگیا ہے۔ اسرائیلی شہری اپنی کشتی وہیں لے گیا جہاں شامی پناہ گزینوں کی کشتی الٹ گئی تھی۔ پناہ گزین نے یہ بھی بتایا کہ ہم لوگ شام سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس پر اسرائیلی کشتی کے "کپتان" نے' Ok' کہا اور پھر سمندر میں ڈوبتے ہوئے گیارہ شامیوں اور ایک عراقی کو بچا لیا۔

اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت" کی رپورٹ میں پناہ گزینوں کے لیے نجات دہندہ ثابت ہونے والے اسرائیلی کشتی کے کپتان کا نام "شلومو اصابان" بتایا گیا ہے۔ کپتان نے عبرانی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کشتی کے حادثے کا شکار ہونے والوں میں ایک شامی خاتون کا چھ ماہ کا بچہ فوت ہوگیا۔ وہ رات بھر اسے اس کی کشتی میں اپنے ہاتھوں میں اٹھائے بیٹھی اور روتی رہی۔ اسرائیلی کشتی کے کپتان کا کہنا ہے کہ انہوں نے بچ جانے والے پناہ گزینوں کو موبائل فون کے ذریعے ان کے اقارب سے رابطہ کرایا اور پینے کو صاف پانی بھی مہیا کیا۔

اسرائیلی اخبارات نے کشتی کےذریعے چند پناہ گزینوں کو بچالینے کے واقعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ بعض اخبارات کا کہنا ہے کہ جب پناہ گزینوں کو پتا چلا کہ ان کا نجات دہندہ ایک یہودی ہے اور اس کا تعلق #اسرائیل سے ہے تو انہوں نے کپتان کے ہاتھ چوم لیے۔ مگر ویڈیو فوٹیج میں ایسا کوئی منظر دکھائی نہیں دیتا۔