.

اسرائیل کو اپنے شہریوں کے دفاع کا حق حاصل ہے: جان کیری

اسرائیلی جارحیت سے 46 فلسطینی شہید، 2000 زخمی ہوچکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ #جان_کیری نے کہا ہے کہ پرتشدد کارروائیوں کے جواب میں اسرائیل کو اپنے شہریوں کے دفاع کا بھرپور حق حاصل ہے۔ امریکی وزیرخارجہ نے اسرائیلی شہریوں کے دفاع کی بات ایک ایسے وقت میں کی ہے جب اکتوبر کے اوائل سے اب تک کم سے کم 45 فلسطینی اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں شہید اور 2000 کے قریب زخمی ہوچکے ہیں۔ جب کہ فلسطینیوں کی انفرادی مزاحمتی کارروائیوں میں آٹھ سے دس یہودیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہوئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے میڈریڈ میں اپنے ہسپانوی ہم منصب 'خوسیہ مانویل گریسا مارگایو' کے ہمراہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے فلسطینیوں اور #اسرائیل دونوں پر صبرو تحمل سے کام لینے پر بھی زور دینے کے ساتھ پرتشدد کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے اسرائیلی اور فلسطینی قیادت کی باہم ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے تاہم اس وقت #مسجد_اقصیٰ اور اس کے گردو پیش میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی وضاحت کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے انہیں بتایا ہے کہ وہ حرم قدسی کے موجودہ حیثیت کو برقرار رکھنے کا پابند ہے۔ مگردوسری طرف عملا عبرانی ریاست یہودی آباد کاروں کو مسجد اقصیٰ میں دھا بولنے اور فلسطینیوں کو اس میں روکنے پر بھی عمل پیرا ہے جس سے مسجد اقصیٰ کی زمانی اور مکانی تقسیم کی سازش صاف دکھائی دے رہی ہے۔

قبل ازیں پیرس میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جان کیری کا کہنا تھا کہ وہ رواں ہفتے جرمنی میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن #نتین_یاھو اور فلسطینی صدر #محمود_عباس سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں بھی خطے میں جاری کشیدگی بالخصوص القدس میں ہونے والی جھڑپوں پر بات چیت کی جائے گی۔

درایں اثناء اسرائیلی کابینہ نے ایک نئے اور متنازع مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو بغیر شک وشبے کے بھی فلسطینیوں کی جسمانی تفتیش کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ قانون داخلی سلامتی کے وزیر گیلاد اردان کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔

نئے قانون میں پولیس کو بغیر کسی شک و شبے کے فلسطینیوں کی جامہ تلاشی لینے، ان کے سامان کی چیکنگ، کپڑوں اور دیگر تمام اشیا کی مکمل چھان بین کی اجازت دے دی گئی ہے۔

اسرائیل میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے چاقو سے بڑھتے حملوں کے جواب میں شہریوں میں اسلحہ تقسیم کرنے کے مطالبات بھی شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔