.

ایرانی پاسداران انقلاب کے شام میں برے دن آ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق گذشتہ دو دنوں کے دوران شام میں داد شجاعت دینے والے پاسداران انقلاب کے تین افسروں سمیت پانچ اہلکار شامل ہیں۔ مرنے والوں میں ایک ایڈوائزر رینک کا افسر بھی شامل ہے۔ یہ ایرانی اہلکار شامی فوج کے شانہ بشانہ اپوزیشن جنگجوؤں سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔

"اھل البیت" نامی ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایڈوائزر رینک کے افسر مھدی علی دوست شام میں اپنے 'فرائض' سرانجام دیتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔ مھدی علی دوست جنوبی تہران کی قم گورنری میں پاسداران انقلاب کے رہنما تھے۔

دوسری جانب "نجف آباد نیوز" نامی ویب پورٹل نے بتایا کہ اصفھان گورنری میں پاسداران انقلاب کی آٹھویں کور کے دو افسران شام میں ہونے والی جھڑپوں میں مارے گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والا ایک اہلکار فرسٹ لیفٹیننٹ کمیل قربانی جبکہ دوسرا لیفٹیننٹ رینک کا حسن احمدی تھا۔ دونوں اہلکاروں کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ شام کے کس محاذ پر جنگ میں ہلاک ہوئے۔ یاد رہے پاسداران انقلاب کی آٹھویں کور کے افسر و جوان سب سے زیادہ شام کے مختلف محاذوں پر ہلاک ہوئے ہیں۔

"فارس" نیوز ایجنسی کے مطابق پاسدران انقلاب کی ھمدان میں تعینات الباسیج ملیشیا کے 145 کمانڈو بٹالین کے دو اہلکار مجتبی کرمی اور مجید صانعی بھی شام میں داد شجاعت دیتے ہوئے ہلاک ہوئے۔

یاد رہے کہ شامی فوج، پاسدران انقلاب اور ان کی صفوں میں شامل ملیشیاؤں کے مدد کے لئے ہفتے قبل کی جانے والی شام میں روسی مداخلت کے بعد ایران اپنے 22 اہلکار گنوا چکا ہے۔ ان میں چھ مشیر لیول کے اعلی افسر بھی شامل ہیں۔ یہ افراد اللاذقیہ، حماہ اور حلب کے نواح میں ہونے والی اپوزیشن جنگجوؤں کے خلاف ہونے والی لڑائی میں ہلاک ہوئے۔