.

ترکی نے بشار الاسد کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے!؟

انقرہ شامی صدر کو عبوری حکومت میں قبول کرنے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی پڑوسی ملک شام میں انتقالِ اقتدار کے عمل کے دوران صدر بشارالاسد کو چھے ماہ کے لیے علامتی اختیارات کے ساتھ قبول کرنے کو تیار ہے اور وہ اس تجویز پر اپنے مغربی اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

ترکی کے ایک سینیر عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''بشارالاسد کی رخصتی کے منصوبے پر غور کیا جارہا ہے۔وہ چھے ماہ کے لیے اقتدار میں رہ سکتے ہیں لیکن اس صورت میں ان کی رخصتی کی ضمانت درکار ہوگی''۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ''ہم نے اس معاملے پر امریکا اور اپنے دوسرے اتحادیوں سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ابھی اس بات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے کہ یہ چھے ماہ کا عرصہ کب شروع ہوگا لیکن ہمارے خیال میں یہ کوئی زیادہ طویل نہیں ہوگا''۔

ایک اور ترک عہدے دار نے بتایا ہے کہ شامی بحران کے حل کے لیے امریکا روس کو یہ تجویز پیش کرے گا لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا روس اس کی تائید کرے گا بھی یا نہیں۔روس شامی صدر کی حمایت میں گذشتہ تین ہفتوں سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر فضائی حملے کررہا ہے اور اس کی بمباری سے سیکڑوں باغی جنگجو اور عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

یورپی ممالک کے درمیان اس وقت شامی بحران کے حل میں بشارالاسد کے کردار سے متعلق اتفاق رائے نہیں پایا جاتا ہے۔فرانس کا یہ کہنا ہے کہ بشارالاسد کو جتنا جلد ممکن ہو،اقتدار چھوڑنا ہو گا جبکہ جرمنی انھیں عبوری دور کے لیے انتقال اقتدار کے عمل میں شریک کرنا چاہتا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ بشارالاسد کو شام میں گذشتہ چار سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والی ممکنہ ڈیل کے تحت کسی مرحلے پر اقتدار سے دستبردار ہونا پڑے گا۔

مگر شامی صدر بیرونی قوتوں کی جانب سے بحران کے حل کے لیے پیش کردہ کسی بھی تجویز پر عمل درآمد سے انکار کرچکے ہیں اور انھوں نے چار اکتوبر کو ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ''غیرملکی عہدے داروں کو شام میں عبوری دور کے لیے انتقال اقتدار سے متعلق کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے بلکہ اس فیصلے کا اختیار شامی عوام کو حاصل ہے اور اسی لیے اس طرح کے بیانات سے ہمیں کوئی تشویش لاحق نہیں ہوتی ہے''۔