.

لیبیا کی پارلیمنٹ نے یو این امن معاہدہ مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#لیبیا کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ پارلیمان کی اکثریت نے #اقوام_متحدہ کی جانب سے تیار کیا جانے والا امن معاہدہ اور قومی حکومت کے قیام کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

تبروک میں قائم لیبی پارلیمنٹ کے رکن علی تقبلی نے بتایا ہے کہ پارلیمان کی جانب سے یہ فیصلہ ایک حالیہ سیشن کے دوران سامنے آیا ہے جبکہ اس دوران اس فیصلے سے متعلق کوئی ووٹنگ نہیں کی گئی تھی۔ تقبلی کا کہنا تھا "قانون ساز اسمبلی کے اکثر ارکان نے اقوام متحدہ کی تجاویز کو مسترد کردیا ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا "ممبران کی اکثریت کی جانب سے یہ فیصلہ کئے جانے کے بعد پارلیمنٹ میں کسی قسم کی ووٹنگ نہیں ہوئی ہے۔" لیبیا کی سرکاری نیوز ایجنسی 'لانا' نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برناردینو لیونکی جانب سے پیش کئے جانے والی تجاویز کو پارلیمان کی اکثریت نے مسترد کر دیا ہے۔

لیبیا میں اگست 2014ء میں اسلام پسند ملیشیائوں کے اتحاد کی جانب سے دارالحکومت طرابلس پر قبضے اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی جانب سے مشرقی شہر تبروک میں پناہ لینے کے بعد سے دو حکومتیں قائم ہیں۔

اقوام متحدہ کے نمائندے لیون نے کئی مہینوں تک جاری مذاکرات کے بعد 9 اکتوبر کو متحدہ حکومت کے قیام کی تجاویز کا اعلان کیا تھا۔ طرابلس میں قائم اسلام پسند تنظیموں کی پارلیمنٹ نے بھی ان تجاویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے لیبیا میں امن معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو متنبہ کیا تھا کہ کسی بھی منفی اقدام کی صورت میں ان پر پابندیوں کا اطلاق کردیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کی تجاویز کے مطابق نئی حکومت کی سربراہی طرابلس کی پارلیمان کے نائب سربراہ فائز السرائی کریں گے اور اس میں تین نائب وزرائے اعظم شامل ہوں گے جن کا انتخاب ملک کے مغرب، مشرق اور جنوبی حصے سے کیا جائے گا۔

عالمی طاقتوں کے مطابق لیبیا میں متحدہ حکومت کا قیام یورپ میں پناہ کی تلاش کے لئے جانے والوں کی شدت میں کمی اور انتہاپسند گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام کی لیبیا میں بڑھتی کارروائیوں میں کمی لانے کا سبب بنے گی۔