.

تعز پر اتحادی بمباری میں حوثی ملیشیا کے دسیوں جنگجو ہلاک

حوثی باغی لحج گورنری کے دیہات پر کاٹیوشیا میزائل داغ رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"العربیہ" کو اپنے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یمن کی لحج گورنری میں المنصورہ اور المضاربہ محاذوں پر یمن کے عوامی مزاحمت کاروں اور منحرف صدر علی عبداللہ صالح کے حامی جنگجوؤں اور حوثی باغیوں کے درمیان شدید جھڑپوں کا آغاز ہو گیا ہے جبکہ عرب اتحادیوں اور یمن کی سرکاری فوج پر مشتمل مشترکہ دستے الجوف کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔

مزاحمت کار ذرائع نے بتایا ہے کہ تعز گورنری پر اتحادیوں کی بمباری کے نتیجے میں باغی ملیشیاؤں کے 46 جنگجو مارے گئے۔ انہی ملیشیاؤں کے متعدد جنگجو الضالع اور اب کے علاقوں میں مزاحمت کاروں سے لڑائی میں ہلاک ہوئے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اتحادی اور یمن کی سرکاری فوج پر مشتمل مشترک دستے اتحادی طیاروں کے کور فائر میں الجوف محاذ کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب صالح اور حوثی ملیشیا کے جنگجوؤں کی مزاحمتی ملیشیا سے لحج کے علاقے المضاربہ اور المںصورہ میں لڑائی جاری ہے۔

اتحادی فوج کے لڑاکا طیاروں نے شبوہ گورنری کے عسیلان اور بیحان علاقوں میں حوثی اور صالح ملیشیا کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

تعز گورنری کی حدود میں دونوں فریقوں کے درمیان المنصورہ اور المضاربہ محاذ پر شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ باغی ملیشیا کاٹیوشا میزائل اور توپخانے سے المنصورہ اور المضاربہ دیہات کو نشانہ بنا رہی ہے جس کے باعث دسیوں خاندان محفوظ پناہ کے لئے لحج نقل مکانی کر رہے ہیں۔

حوثی اور صالح ملیشیا لحج کے شمال مشرقی محاذ سے المسیمر کے علاقے میں داخلے کی کوشش کر رہے تاکہ لحج کے مقابل پہاڑوں پر قبضہ کر سکیں اور وہاں اونچی جگہ توپوں اور میزائل فائر کرنے کے لئے لانچنگ پیڈ نصب کر سکیں۔

ایسا لگتا ہے کہ حوثی اور صالح ملیشیا مزاحمت کاروں اور سرکاری فوج کے کنڑول میں جانے والے ٹھکانوں کو رواں مہینے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات سے پہلے واپس لینا چاہتے ہیں۔ ادھر سوڈان سے تازہ دم فوج دستے عدن کی بندرگاہ پہنچ گئے ہیں۔