.

مشرق وسطیٰ میں امریکی خلاء نے روس کو موقع دیا: کسنجر

'عرب خطےمیں امریکی موجودگی بری طرح پھوٹ اور زوال کا شکار ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#امریکا کے سابق وزیرخارجہ ہینری کسنجر نے اپنی حکومت کی #مشرق_وسطیٰ اور عرب ممالک بارے پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے خبردارکیا ہے کہ عرب خطے سے انخلاء کے بعد #روس امریکی خلاء پر کرنا چاہتا ہے جس کے نتیجے میں امریکا کے عرب اتحادی نہ صرف شکست کا سامنا کررہے ہیں بلکہ امریکا کے ساتھ ان کے اتحاد کو بھی شک وشبے کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنے ایک انٹرویو میں سابق امریکی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ #شام کے بحران اور عرب ممالک میں اٹھنے والی تبدیلی کی لہروں سے ایک نئی شکست ہماری منتظر ہے۔ خاص طور پر امریکا کے عرب خطے سے نکلنے کے بعد پیدا ہونے والے خلاء کو روس نے پُر کرنا شروع کردیا ہے۔ امریکی کردار کی کمزوری نے عرب اتحادیوں کو بھی مخمصوں کا شکار کیا ہے اور وہ امریکا کے ساتھ اپنے اتحاد اور دیرینہ تعلقات کو بھی شک و شبے کی بنیاد پر دیکھ رہے ہیں۔

"مشرق وسطیٰ میں جیو پولیٹیکل زوال" کے عنوان سے ہنری کسنجر کا یہ انٹرویو امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" میں شائع ہوا ہے جسے سعودی عرب "الوطن" نے بھی عربی میں شائع کیا۔ ہنری کسنجر کا کہنا ہے کہ شام میں روس کی فوجی مداخلت نے مشرق وسطیٰ میں امریکی زوال اور کمزور پالیسیوں کی علامات واضح کردی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں امریکا وہ کردار ادا نہیں کرسکا جو اسے ادا کرنا تھا مگر سنہ 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد امریکا نے مشرق وسطیٰ میں استحکام اور امن وامان کے صرف وعدے کیے۔ کوئی عملی قدم نہیں اٹھا سکا۔ روس نے امریکی کمزوری کو بھانپ لیا اور وہ آج امریکی خلاء کو پُر کررہا ہے۔

جیو۔ پولیٹیکل پیٹرن کی کمزوری

اپنے انٹرویو میں سابق امریکی وزیرخارجہ ہینری کسنجر کا کہنا ہے کہ سابق سوویت یونین کے ساتھ تنازع کے بعد #مصر نے بھی روس سے علاحدگی اختیار کرتے ہوئے امریکا کی سرپرستی میں #اسرائیل سے امن معاہدہ کر کے صہیونی ریاست سے سفارتی تعلقات استوار کیے۔ مصر کے دیکھا دیکھی اردن نے بھی اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرلیے۔ #اقوام_متحدہ کی مساعی سے شام اور اسرائیل کے درمیان بھی اختلافات کی برف پھگلانے کی کوشش کی گئی۔ عراق کے سابق مصلوب صدر صدام حسین نے #عراق پر حملہ کیا تو امریکا کی قیادت میں اتحادیوں نے صدام کو شکست سے دوچار کیا۔ پھر جب امریکا نے افغانستان اور عراق میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پرحملہ کیا تو عرب ممالک نے امریکا کا بھرپور ساتھ دیا۔ مصر، اردن اور خلیجی ممالک امریکا کے گہرے دوست اور اتحادی بن گئے۔ یوں خطے سے روسی عمل دخل کمزور ہوتے ہوئے نہ ہونے کے برابر رہ گیا۔

آج روس ایک بار پھر اکھاڑے میں پوری طاقت کے ساتھ موجود ہے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ میں کئی ممالک اندرونی خلفشار سے گذر رہے ہیں۔ لیبیا، یمن، شام اور عراق سب سے بھیانک خلفشار کا شکار ہیں۔ ان ملکوں کے مقامی گروپ اپنی اپنی حکومتوں کے قیام اور بالا دستی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ شام اور عراق میں ایسے گروپوں کو بہت کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں۔ دولت اسلامیہ "#داعش" نے خود ساختہ ہی سہی مگر ایک نام نہاد خلافت قائم کر ڈالی اور عالمی نظام سیاست کے متبادل اپنے نظام سیاست پیش کرنا شروع کردیے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کا مقصد ملکوں کو کمزور کرنا

امریکا کے منجھے ہوئے سیاسی رہ نما اور عالمی سیاسی تاریخ پر گہری بصیرت رکھنے والے سابق وزیرخارجہ ہینری کسنجر کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو چار اہم خطرات کا سامنا ہے۔ یہی خطرات خطے کو زوال اور تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ پہلا اور سب سے بڑا خطرہ ایران سے ہے۔ ایران خطے میں فارسی شہنشاہیت نافذ کرنے کی سازشیں کررہا ہے۔ انتہا پسند سیاسی جماعتیں موجودہ سیاسی ڈھانچوں کو مسمار کرکے ان کی جگہ خود ساختہ انتہا پسندانہ سیاسی نظریات نافذ کرکے ان ملکوں کو مزید کمزور کررہی ہیں۔ تیسرا خطرہ ان ملکوں کے اندر جاری مذہبی اورنسل بنیادوں پر لڑائیاں ہیں اور چوتھا خطرہ ان ملکوں کے اندر سیاسی اور اقتصادی بحران اوران کے نتیجے میں حکومتوں پر دبائو قرار دیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام ان تمام خطرات کی سب سے بڑی مثال ہے جہاں یہ چاروں خطرات بہ یک وقت موجود ہیں۔ شام کے عوام کی بھاری اکثریت اس وقت صدر بشارالاسد کی استبدادیت کو مسترد کرچک ہے۔ مگر عوام خود نسل اور مذہبی فرقوں میں تقسیم ہیں۔ یہ گروپ آپس میں بھی دست وگریباں ہیں۔ بیرونی عناصر ان کی لڑائیوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے تزویراتی مفادات کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ خاص طورپر ایران شام کے بحران سے فائدہ اٹھا کر مداخلت بڑھا رہا ہے۔ شام کے بحران نےایران کو بحر متوسط تک رسائی کا ایک نیا موقع فراہم کیا۔ اس کے مقابلے میں خلیجی ممالک بشارالاسد کو ہرقیمت پراقتدار سے ہٹاتے ہوئے ایرانی مداخلت کو روکنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ عرب ممالک کا مقابلہ نہ صرف ایران سے ہے بلکہ وہ ایک پراسرار انتہا پسند طاقت ور گروپ "داعش" سے بھی لڑ رہے ہیں۔ خطے کے ممالک میں جاری کشیدگی کے تناظرمیں ایران کے جوہری پروگرام پر ہونے والے معاہدے کو دیکھا جائے تو وہ اور بھی پیچیدہ دکھائی دیتا ہے، کیونکہ اس معاہدے کے بعد خطے کے سنی اکثریت ملکوں کے خدشات پہلے سے بڑھ چکے ہیں۔

خطے سےامریکی انخلا

سابق امریکی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کے موجودہ غیر موثر کردار کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا کو روس نے پُر کرنا شروع کیا۔عرب ملکوں میں روس کی فوجی مداخلت اس خطے میں امریکی مفادات کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ اگرچہ امریکا اور خطے کے اس کے عرب اتحادی شام میں بشارالاسد کا سیاسی کردار ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں مگر خطرہ یہ ہے کہ صدر اسد اقتدار سے علاحدہ ہوتے ہیں توشام دوسرا لیبیا بن جائے گا۔ کوئی بعید نہیں کہ داعش دمشق کے اقتدار پرقبضہ جمالے۔ اس طرح داعش کو ایک پورا ملک مل جانے سے اس کی دہشت گردی مزید موثر ہوتی چلی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کی شام میں مداخلت سے ایرانی شیعہ نظام کی عرب خطے میں اثر پذیری میں بھی مدد گار ثابت ہوگی اور فرقہ واریت کی بنیاد پر مستقبل میں لڑائیوں کے خطرات اور بڑھ جائیں گے۔