.

گھڑی ساز طالب علم احمد نے امریکا چھوڑ دیا

خلیجی ریاست قطر میں اہل خانہ سمیت سکونت اختیار کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ریاست ٹیکسس سے تعلق رکھنے والے 14 سالہ مسلمان طالب علم احمد محمد اپنے خاندان کے ساتھ قطر منتقل ہو گئے ہیں۔
احمد کو پولیس نے اس وقت گرفتار کر لیا تھا جب وہ اپنے اساتذہ کو اپنی بنائی ہوئی گھڑی سکول میں دکھانے کے لیے لے کر گئے اور وہ اسے بم سمجھ بیٹھے۔

افریقی نژاد امریکی شہری احمد کو قطر ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے سکالر شپ دیا ہے، اس لیے وہ اب قطر میں تعلیم حاصل کریں گے۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ احمد کے ساتھ برا اس لیے ہوا کہ اُن کانام مسلمانوں جیسا تھا، جبکہ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ احمد کو حراست میں اس لینے کا مقصد باقی طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔

قطر فاؤنڈیشن نے احمد کو سکینڈری اور ہائیر سکینڈری تعلیم مکمل کرنے کے لیے وظیفہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

احمد کے خاندان اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ ہمارے خاندان کو اس افسوس ناک واقعے کے بعد بہت سی اچھی پیشکشیں ہوئی تھیں۔ احمد نے کہا کہ ’قطر ایک اچھی جگہ ہے اور دوحہ بہت جدید شہر ہے اس لیے مجھے یہ بہت پسند آیا ہے۔ یہاں بہت سے اچھے سکول ہیں اور کئی امریکی یونیورسٹیوں کے کیمپس بھی ہیں۔ ٹیچرز اچھے ہیں۔ میرے خیال میں مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔‘ احمد نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد سکول چھوڑ دیا تھا۔

اساتذہ کی شکایت پر احمد کو حراست میں لیے جانے کے بعد ہتھکڑی لگائی گئی اور ان کے فنگر پرنٹس لیے گئے۔ لیکن جب یہ طے ہو گیا کہ ان سے کوئی خطرہ نہیں تو انھیں رہا کر دیا گیا۔ گھڑی کو بم سمجھنے پر احمد کو پولیس کے حوالے کرنے کے بعد یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا۔

’آئی سٹینڈ وِد احمد‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹوئٹر پر ہزاروں صارفین نے احمد کی گھڑی کی تعریف کی تھی اور ان کو حراست میں لیے جانے پر سوال اٹھایا تھا۔ ان افراد میں ناسا کے سائنس دان، فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ اور امریکا کے صدر براک اوباما شامل ہیں۔

صدر اوباما نے ٹویٹ کیا: ’احمد شاباش، آپ نے بڑی اچھی گھڑی بنائی۔ آپ اسے وائٹ ہاؤس لانا چاہیں گے؟ ہمیں آپ جیسے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے تاکہ انھیں بھی سائنس پسند آئے۔ اسی طرح کے کام امریکا کو عظیم ملک بناتے ہیں۔‘