.

ایران کا شام میں مزید فوجی دستے بھجوانے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع کے لیے اپنے تازہ دم فوجی دستے شام بھجوانے کا اعتراف کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کے معاون خصوصی برائے عرب و افریقی امور حسین امیر عبداللھیان نے کہا ہے ان کے ملک نے شام میں صدر بشار الاسد کو بچانے کے لیے تازہ دم فوجی دستے بھیجے ہیں۔

"ٹی وی 4" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حسین عبداللھیان نے کہا کہ شام میں فوجی دستے صدر بشارالاسد کی حکومت کی درخواست پر بھجوائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے عسکری مشیر پہلے ہی شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بشارالاسد کی فوج کی رہ نمائی کر رہے ہیں۔

ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ شام میں ایران اور روسی فوج کے درمیان کارروائیوں میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ایران کے بعد اب روس نے بھی شام میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں بھرپور معاونت جاری رکھی ہوئی ہے۔ ہم نے بھی دمشق کی درخواست پر تازہ دم فوجی اور عسکری مشیران شام بھیجے ہیں۔

درایں اثناء ایرانی مجلس شوریٰ کی دفاعی کمیٹی کی چیئرمین اسماعیل کوثری کا کہنا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کی رہ نمائی کے لیے بھیجے گئے عسکری مشیر اس وقت تک وہاں کام کریں گے جب تک بشارالاسد کو اس کی ضرورت ہے۔

خبر رساں ایجنسی"تسنیم" کے مطابق مسٹر اسماعیل کوثری کا کہنا ہے کہ ایران نے ماضی میں بھی صدر بشارالاسد کو عسکری میدان میں رہ نمائی مہیا کی ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ ایرانی عہدیداروں کی جانب سے تازہ دم فوجی دمشق بھجوائے جانے کا اعتراف ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دوسری جانب ایرانی جنگجوئوں اور پاسداران انقلاب کو شام کے محاذ جنگ پر بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔ پچھلے دو ہفتوں کے دوران شام میں 23 ایرانی فوجی اور نیم فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔