.

''داعش ،شامی انٹیلی جنس اور کرد باغیوں کا انقرہ بم دھماکوں میں ہاتھ''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ داعش ،کرد جنگجوؤں اور شام کی خفیہ پولیس ''مخابرات'' کا اس ماہ انقرہ میں دو خودکش بم دھماکوں میں ہاتھ کارفرما تھا۔

انقرہ میں 10 اکتوبر کو کرد نواز جماعتوں کی امن ریلی کے دوران خودکش بم دھماکوں میں ایک سو افراد ہلاک اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ترک حکام نے ان میں سے ایک خودکش بمبار کو شناخت کر لیا ہے اور اس کا نام یونس امیر الگوز بتایا گیا ہے۔

ترک حکام کے مطابق الگوز کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جنوب مشرقی قصبے ادیمان میں داعش کے ایک مقامی سیل کا رکن تھا۔ترک صدر نے قبل ازیں بھی عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش پر ان بم دھماکوں میں ملوّث ہونے کا شُبہ ظاہر کیا تھا۔

صدر طیب ایردوآن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی کو ایسے انٹیلی جنس اشارے ملے ہیں جن سے یہ پتا چلتا ہے کہ انقرہ میں بم حملے کا تعلق شام سے ہے جہاں داعش کے انتہاپسندوں نے ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع ایک بڑے علاقے پر قبضہ کررکھا ہے۔صدر ایردوآن نے تسلیم کیا ہے کہ سکیورٹی انتظامات میں بھی سُقم موجود تھے لیکن ان کے بارے میں تفصیل تحقیقات کے بعد جاری کی جائے گی۔

ترک حکام شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے سوروچ میں 20 جولائی کو خودکش بم دھماکے اور انقرہ بم حملوں میں مماثلت ڈھونڈنے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔سوروچ میں بم دھماکے میں چونتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے اور دہشت گردی کے اس واقعے کے بعد ترک فوج نے شمالی عراق میں کرد باغیوں اور شمالی شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے کیے تھے۔ترک حکومت نے داعش پر اس بم حملے میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔