.

یمنی مزاحمت کے سامنے حوثی ملیشیا کی پسپائی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے عوامی مزاحمت کاروں نے ملک کے جنوبی شہروں ایب اور الضالع کے متعدد مقامات سے حوثی باغیوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔ اسی اثناء میں معزول صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار جنگجوؤں اور حوثی ملیشیا نے تعز کے علاقے میں عام شہریوں پر اندھا دھند گولا باری کا سلسلہ جاری رکھا۔

عرب اتحادی لڑاکا طیاروں کی بمباری کے کور میں عوامی مزاحمت کاروں نے ایب شہر کے مشرقی اور جنوب مشرقی محاذوں سے حوثی باغیوں کو نکال کرنے کے بعد علاقے کا کنڑول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ انہیں یہ کامیابی العود اور الشعر ڈائریکٹوری کو ملانے والے السور کے علاقے میں باغیوں سے لڑائی کے بعد ملی۔

تعز پر حوثی اور صالح ملیشیا کے جنگجو اندھا دھند بمباری کر کے رہیں، جس کے بعد باغی ملیشیاؤں اور عوامی مزاحمت کاروں کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

دوسری جانب اتحادی لڑاکا طیاروں نے تعز کے علاقے میں انقلابیوں کے متعدد ٹینک، میزائل لانچنگ پیڈز تباہ کر دیئے۔ انہوں نے 35 فوجی کیمپ، اور تعز کے مشرق میں واقع پرانے ائرپورٹ میں گولا بارود کے گودام بھی تباہ کئے۔

مزاحمتی ملیشیا کے ذرائع کا کہنا ہے حالیہ جھڑپوں میں حوثی باغیوں کے 20 جنگجو ہلاک جبکہ دسیوں زخمی ہوئے۔ عوامی مزاحمت کاروں کی مارب کے علاقے صرواح کی ایک گھات کارروائی میں سات حوثی باغی ہلاک جبکہ حجہ گورنری کے حیران علاقے میں بمباری کے نتیجے میں آٹھ دوسرے حکومت مخالف جنگجو بھی ہلاک ہوئے۔

اتحادی لڑاکا طیاروں نے صعد گورنری کے حیدان علاقے میں بھی حوثی باغیوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

دارلحکومت صنعاء سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اتحادی طیاروں نے حوثیوں کی اعلی قیادت کو بھی چن چن کر اس وقت نشانہ بنایا جب وہ الخمسین کے علاقے میں جنرل علی محس الاحمر کے گھر پر ایک اجلاس منعقد کر رہے تھے۔