.

یورپی مہاجر کیمپوں میں خواتین، بچوں سے جنسی زیادتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بشار الاسد کی عوام دشمن پالیسیوں اور کھلی جنگ سے جان بچا کر ہجرت کرنے والی خواتین اور بچے پناہ گزینوں کے یورپی مراکز میں بڑے پیمانے پر توہین آمیز تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بن رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق اس سال یورپ نقل مکانی کرنے والے شامی مہاجرین کی تعداد چھے لاکھ ہے جس میں ایک تہائی بچے اور خواتین ہیں۔ یو این ایچ سی آر نے خبردار کیا ہے کہ مہاجرین کی اس ایک تہائی تعداد کا 'مخصوص طریقے سے استحصال کیا جا رہا ہے۔'

"ہم نے خطرے کی گھنٹی بجا دی"

ہائی کمشنر برائے مہاجرین کی ترجمان ملیسا فلمنگ کا کہنا تھا کہ "ہم خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں"۔ انہوں نے بتایا کہ مہاجرین سے بھرے مراکز میں جنسی تشدد کی شکایات عام ہو رہی ہیں۔ یونان کے جزیرہ لیسبوس میں قائم مہاجرین مرکز میں ہزاروں افراد روزانہ آ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے مراکز میں روشنی کا انتظام ناکافی ہوتا ہے۔ نیز بچوں والی فیملز اور کنواری خواتین کے لئے الگ جگہ بھی ناکافی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے متعدد مہاجرین اور پناہ گزین ٹرین سٹیشن، باغات اور سڑکوں کے کنارے کھلے آسمان تلے کیمپ لگانے پر مجبور ہیں، جہاں مقیم خواتین اور بچوں کی حالت ناگفتہ بہ ہوتی ہے اور ان کا بری طرح استحصال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بعض بچے فرار کے لئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے کی خاطر جنسی کاموں میں پڑ جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کرایہ ادا کرنے کی رقم نہیں ہوتی یا وہ پناہ گزینی کے سفر میں لٹ پٹ چکے ہوتے ہیں۔ "جن بچوں کے ساتھ کوئی بڑا نہیں ہوتا وہ ناکافی دیکھ بھال کی وجہ ایسے افعال کا زیادہ شکار بنتے ہیں۔"