.

'یمن کے سیاسی حل کی تلاش میں مزید وقت ضائع نہیں ہوسکتا'

اقوام متحدہ کی فریقوں کو ایک بار پھر مذاکراتی میز پر لانے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#اقوام_متحدہ کے #یمن میں خصوصی نمائندے کا کہنا ہے کہ وہ حکومت اور باغی ملیشیائوں کی قیادت کے ساتھ فوری طور پر رابطے شروع کررہے ہیں تاکہ وہ امن مذاکرات کے ایجنڈے اور تاریخ کا تعین کرسکیں۔

اسماعیل ولد شیخ احمد نے #یو_این #سیکیورٹی_کونسل کو بتایا ہے کہ #حوثی ملیشیا اور سابق صدر علی #عبداللہ_صالح کے وفاداروں نے واضح طور پر قرارداد نمبر 2216 پر عمل درآمد کی یقین دہانی کروائی تھی جس میں باغیوں کی اہم یمنی شہروں سے واپسی اور تمام بھاری ہتھیاروں کو حکومت کے حوالے کرنا شامل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یمنی صدر عبد ربو منصور ھادی نے آنے والے مذاکراتی عمل میں اپنا وفد بھیجنے کی یقین دھانی کروائی ہے۔ اس سے پہلے یمنی صدر نے باغیوں کی یمنی شہروں سے واپسی کے فیصلے پر عمل کا مطالبہ کرتے ہوئے عمان میں ہونے والے یو این مذاکرات میں شرکت کرنے سے انکار کردیا تھا۔

ابھی تک اس نئے مذاکراتی سیشن کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔

سیکیورٹی کونسل نے ایک علاحدہ بیان میں تمام یمنی پارٹیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی طرف سے شروع کئے گئے مذاکراتی عمل کو بحال کریں اور کسی سیاسی حل کی تلاش کے عمل میں تیزی لائیں۔

ولد شیخ احمد نے سیکیورٹی کونسل کو بتایا ہے کہ یمن میں جاری بحران کے نتیجے میں یمن کی 80 فی صد آبادی یعنی دو کروڑ دس لاکھ لوگوں کو امداد کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں اس وقت مزید شدت آئی ہے جب عرب اتحاد نے یمن پر اپنی فضائی کارروائیوں کی مہم شروع کی ہے۔

ولد شیخ کا کہنا تھا بحری محاصرے کی وجہ سے یمن میں تیل لانے والے جہاز یمنی بندرگاہوں پر نہیں آسکتے ہیں جس کی وجہ سے شہری زندگی خاص طور پر ہسپتالوں کے معاملات بری طرح متاثر ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا ستمبر میں پہنچانے جانے والے تیل کی وجہ سے ملک کے ماہانہ ضرورت کے صرف ایک فی صد کے برابر سامان پہنچایا گیا ہے۔

سیکیورٹی کونسل کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ 1٫6 ارب ڈالر کی امداد کے مطالبے میں صرف 47 فی صدر فنڈز فراہم کئے گئے ہیں۔ کونسل نے عالمی برادری سے مزید امداد فراہم کرنے کی اپیل کی۔