.

ای یو، بلقان مہاجرین کے لئے استقبالیہ مرکز بنانے پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یونان اور مشرقی یورپ کے ملکوں پر تارکین وطن کا بوجھ کم کرنے کے لیے یورپی یونین اور یونان اس خطے میں ایک لاکھ استقبالیہ قائم کرے گی۔

اس بات کا اعلان یورپی کمیشن کے صدر جون کلاڈ جنکر نے پیر کو علی الصباح کیا۔ اس سے قبل اتوار کو برسلز میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پچاس ہزار سنٹرز یونان اور دیگر پچاس ہزار سنٹرز پورے بلقان خطے میں قائم کیے جائیں گے۔

اس اجلاس میں جرمنی کی چانسلر اینجیلا مرکل سمیت یورپی یونین کے مختلف رہنماوں کے علاوہ یونین کے غیر رکن یورپی ملک کے عہدیدار شریک ہوئے۔

جنکر کا کہنا تھا کہ یہ سنٹر تارکین وطن کے لیے اہم کردار ادا کریں گے جہاں ان کے اندراج کے علاوہ ان کی آمد ورفت کو بہتر انداز میں مرتب کیا جائے گا۔

چانسلر اینجیلا مرکل نے تارکین وطن اور پناہ کی تلاش میں یورپ کا رخ کرنے والوں کی بڑی تعداد اور مختلف ملکوں کی طرف سے سرحدوں پر کی گئی سختیوں کے تناظر میں پیر کو کہا کہ "یہ یورپ کو درپیش آزمائشوں میں سے ایک ہے۔"

جنکر نے لگ بھگ 20 تجاویز پر مبنی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں تارکین وطن سے متعلق معلومات کے مختلف ملکوں کے درمیان تبادلے کا منصوبہ بھِی شامل ہے۔

ادھر کروئیشیا کے وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہفتہ کو ان کے ملک میں 11500 تارکین وطن داخل ہوئے جو کہ کسی ایک ہی دن میں یہاں پہنچنے والے لوگوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔