.

بیت المقدس کے لاکھوں فلسطینیوں کی سکونت خطرے میں!

فلسطینی باشندوں کے رہائشی کارڈز منسوخ کرنے کی اسرائیلی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے بیت المقدس کے ہزاروں فلسطینی باشندوں کو ان کی اقامت کے لیے جاری کردہ "زرد کارڈ" منسوخ کرنے کی تجویز ے کر دیوار فاصل کی دوسری طرف رہنے والے کم سے کم ایک لاکھ فلسطینیوں کو ایک نئی مشکل سے دوچار کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو جو فلسطینیوں کے حوالے سے نہایت سخت موقف رکھتے ہیں نے دو ہفتے پیشتر اپنی کابینہ کے اجلاس کے دوران یہ تجویز پیش کی تھی کہ القدس کی کئی فلسطینی کالونیوں میں رہائش پذیر فلسطینیوں کے زرد کارڈز منسوخ کردیے جائیں۔

اسرائیلی حکومت نے جانب سے بیت المقدس کی کئی کالونیوں میں مقیم فلسطینیوں کے اقامتی کارڈز منسوخ کرنے کی تجویز پہلی بار دی گئی ہے۔ اگرچہ نیتن یاھو نے اپنی تجویز میں کابینہ کے ارکان سے رائے مانگی ہے اور کہا ہے کہ اس پرعمل درآمد کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے مگر اس سے اسرائیلی حکومت کے فلسطینیوں کے حوالے سے اس خطرناک پلان کی نشاندہی ہو رہی ہے۔ سنہ 1967ء کی جنگ میں القدس پرقبضے کے بعد اسرائیلی حکومت پہلی بار فلسطینی اکثریتی آبادیوں کو بھی اقامت کے حق سے محروم کرنے جا رہی ہے۔ ان کالونیوں میں کئی اہم اسرائیلی سیاسی اور حکومتی شخصیات بھی مقیم ہیں۔ ان میں حکمراں جماعت "لیکوڈ" کے ایک وزیر یسرائیل کاٹز بھی انہی فلسطینی کالونیوں میں رہنے والے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں موجود ماہرین قانون نے خبردار کیا کہ اس طرح کی تجویز سے اسرائیل کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ اتنی بڑی تعداد کی شہریت منسوخ کرنے کا آئین میں کہیں بھی جواز موجود نہیں ہے۔ نیز دیوار فاصل کی دوسری جانب واقع فلسطینی کالونیوں پر عمل اسرائیل کی عمل داری نہیں ہے۔ اگرچہ دوسری جانب کے فلسطینی شہری اسرائیل کی فراہم کردہ سہولیات اور مراعات سے مستفید ہورہے ہیں قانون اتنی بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی شہریت منسوخ کرنا ممکن نہیں ہے۔

آبادیاتی غلبے کی جنگ

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیل میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اپنی تجویز پرکابینہ کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے مگر اس تجویز پررائے عامہ ہموار کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس پرقبضے کے بعد صہیونی ریاست نے 20 فلسطینی قصبوں کو الگ کردیا تھا۔ ان میں شعفاط پناہ گزین کیمپ، عناتا، قلندیا کیمپ، راس خمیس اورالرام کفر عقب سر فہرست ہیں۔ ان میں کم سے ایک لاکھ فلسطینی باشندے رہائش پذیر ہیں۔

اسرائیلی حکومت کے ہاں زیرغور تجوز پرعمل درآمد کیا جاتا ہے تو مشرقی بیت المقدس کے تین لاکھ 90 ہزار فلسطینی باشندوں میں سے 2 لاکھ 70 ہزار شہریوں کی اقامت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یوں اس تجویز پرعمل درآمد کے نتیجے میں بیت المقدس میں اسرائیل کو یہودی آبادی کا غلبہ ثابت کرانے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

اسرائیلی اپوزیشن نیتن یاھو کی اس تجویز سے متفق نہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ نتین یاھو بیت المقدس کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ متحدہ القدس اسرائیل کا ابدی دارالحکومت ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی اکثریتی کالونیوں میں مقیم ان فلسطینی شہریوں کو زرد کارڈز جاری کیے جاتے ہیں جو یہ ثابت کریں کہ وہ پچھلے سات سال سے ایک مقیم کے طورپر وہاں رہ رہے ہیں۔ حالیہ ادوار میں زرد کارڈز کے حصول کی شرائط مزید سخت کردی گئی ہیں۔ نیتن یاھو کی حکومت اگر فلسطینی شہریوں کے کارڈز واپس لینے میں کامیاب نہیں ہوتی تب بھی وہ فلسطینیوں کو القدس سے بے دخل کرنے کی کوئی نہ کوئی سازش کرتی رہے گی۔