.

ترکی :جھڑپوں میں 2 پولیس اہلکار ،داعش کے 7جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں سوموار کو علی الصباح دس سے زیادہ مکانوں میں چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں جن کے دوران دولت اسلامیہ عراق وشام(داعش) سے وابستہ مشتبہ جنگجوؤں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دو پولیس اہلکار مارے گئے ہیں اور سات جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق کرد اکثریتی شہر دیار بکر کے علاقے کیاپینار میں داعش سے وابستہ جنگجوؤں اور پولیس کے درمیان کئی گھنٹے تک جھڑپیں ہوئی ہیں۔ترک حکام نے انقرہ میں 10 اکتوبر کو دو خودکش بم دھماکوں کے بعد داعش کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ان بم دھماکوں میں ایک سو دو افراد ہلاک اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ترکی کی جدید تاریخ میں یہ سب سے تباہ کن بم دھماکے تھے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے داعش کے علاوہ شامی انٹیلی جنس اور کرد باغیوں کو دہشت گردی کے اس حملے میں ملوّث قرار دیا تھا۔انھوں نے گذشتہ ایک بیان میں کہا تھا کہ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے ) کے جنگجوؤں ،شامی خفیہ پولیس ''مخابرات'' اور شامی کرد ملیشیا پی وائی ڈی نے داعش کے ساتھ مل کر ان بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔