.

سعودی عرب: مسجد میں خودکش حملہ، 2 جاں بحق، 19 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے یمن کی سرحد کے نزدیک واقع شہر نجران میں ایک مسجد میں نماز مغرب کے وقت خودکش بم دھماکے میں دو افراد جاں بحق اور انیس زخمی ہو گئے ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ نے اس بم حملے میں دو افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ 'العربیہ' نیوز چینل نے تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق جنوب مغربی شہر نجران میں واقع مسجد المشہد میں ایک بمبار نے سوموار کو نماز مغرب کی ادائی کے دوران خود کو دھماکے سے اڑایا ہے۔ فوری طور پر حملہ آور یا اس بم حملے میں ملوث کسی مشتبہ گروپ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

سعودی عرب میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گردی کا یہ پانچواں بڑا واقعہ ہے۔اکتوبر کے وسط میں مشرقی شہر صیھات میں ایک مسلح شخص نے اہل تشیع کے ایک اجتماع پر فائرنگ کردی تھی جس سے پانچ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

اگست میں جنوبی شہر أبھا میں ایک مسجد میں خودکش بم دھماکے میں سعودی عرب کے بارہ سکیورٹی اہلکار اور تین شہری جاں بحق ہوگئے تھے۔یہ خودکش بم دھماکا داخلی سکیورٹی کے ذمے دار خصوصی اسلحہ اور حربی یونٹ (ایس ڈبلیو اے ٹی، سوات) کے ہیڈ کوارٹرز میں واقع مسجد میں ہوا تھا۔

مشرقی شہر الدمام میں مئی میں اہل تشیع کی مسجد العنود کے باہر ایک حملہ آور بمبار نے بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

اس سے پہلے 22 مئی کو سعودی عرب کے مشرقی صوبے القطیف میں واقع قصبے القدیح میں نمازجمعہ کی ادائی کے دوران اسی انداز میں اہل تشیع کی ایک مسجد میں خودکش بم حملہ کیا گیا تھا۔اس بم حملے میں اکیس افراد جاں بحق اور اسّی سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش سے وابستہ ایک سعودی سیل نے مؤخرالذکر دونوں خودکش بم حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ سعودی حکام نے القدیح میں حملہ کرنے والے خودکش بمبار کی شناخت صالح بن عبدالرحمان صالح القشعمی کے نام سے کی تھی اور داعش سے وابستہ سیل کے چھبیس ارکان کو واقعے کے بعد گرفتار کرلیا تھا۔سعودی وزارت داخلہ کے مطابق خودکش بمبار کے داعش کے ساتھ روابط استوار تھے۔

سعودی سکیورٹی فورسز نے مشرقی صوبے القطیف اور الدمام میں مساجد پر ان تباہ کن بم حملوں کے بعد جون اور جولائی میں کریک ڈاؤن کے دوران چار سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف اب عدالتوں میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔