.

سعودی عرب: لیبر قوانین کی عملداری کے لئے کمیٹیوں کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں لیبر قوانین کے عملدرآمد کو یقینی بنانے، انتظامیہ اور ملازمین کے درمیان قابل عمل رابطوں کو یقینی بنانے کے لئے نئی لیبر کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

لیبر معاملات کے ماہر مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسی کمیٹیوں کے قیام سے کمپنیوں میں لیبر قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

لیبر قوانین میں کی جانے والی حالیہ ترامیم کی بدولت قائم ہونے والی ان کمیٹیوں کی رکنیت منتخب ملازمین اور ایک انتظامی عہدیدار کو دی جائے گی جو کہ انتظامیہ سے مذاکرات کے دوران ملازمین کی نمائندگی کریں گے۔ تمام کمپنیوں کو وزارت لیبر نے یہ ہدایت جاری کی ہے کہ وہ وزارت سے منظور شدہ ایک قانون بنا کر اپنے ملازمین کو جاری کریں اور ان کو اس کی پاسداری کی تلقین کریں۔

نئی ترمیم کے مطابق جو کمپنیاں اس نئے قانون کو جاری کرنے میں ناکام رہیں گی انہیں 50 ہزار سعودی ریال [ساڑھے 13 لاکھ روپے] کا جرمانہ کیا جائے گا۔

یہ قانون کمپنیوں کو یہ اختیار دے گا کہ وہ قوانین کی عدم پاسداری کرنے والے ملازمین کو جرمانہ کریں گے اور اس جرمانے کو ملازمین کی فلاح و بہبود کے کاموں میں استعمال کیا جائے گا۔

چارٹرڈ اکائونٹنٹس کی کمیٹی کے چئیرمین عبداللہ بکدہ کا کہنا تھا کہ ملازمین سے لیا جانے والا جرمانہ کمپنی کی آمدنی میں جمع نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے ملازمین کی فلاح وبہبود کے کاموں میں استعمال کیا جائے گا۔

وکیل طلال العمری نے کہا ہے کہ لیبر کمیٹیاں ملازمین کی کارکردگی پر مثبت اثر ڈالیں گی۔ ان کا مزید کہنا تھا "یہ اقدام ملازمین کو یہ یقینی دہانی کرواتا ہے کہ ان کے مطالبات کمپنی کے مالکان تک پہنچ جائیں گے اور اس سے ملازمین کا مورال بڑھے گا۔ اس سے سعودی عرب کی لیبر مارکیٹ پر بھی مثبت اثر پڑے گا اور اس سے ماضی میں ہونے والی کچھ غلطیوں کا ازالہ بھی ہو سکے گا۔