.

محمود عباس، نیتن یاہو گروپ چار سے مذاکرات کریں: ای یو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس پر زور دیا ہے کہ وہ آیندہ چند روز میں مشرق وسطیٰ سے متعلق گروپ چار کے نمائندوں سے ملاقات کریں تاکہ مسلسل تعطل کا شکار امن مذاکرات بحال کیے جاسکیں۔

فیڈریکا مغرینی نے منگل کے روز فرانس کے مشرقی شہر اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''میں نے نیتن یاہو اور محمود عباس دونوں سے یہ کہا ہے کہ وہ آیندہ دنوں میں،ہفتوں میں نہیں، گروپ چار کے نمائندوں سے ملاقات کریں''۔انھوں نے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان جاری تشدد پر قابو پانے کے لیے مذاکراتی عمل تیز کرنے کی ضرورت زور دیا ہے۔

انھوں نے یورپی پارلیمان کو خبردار کیا ہے کہ ''اگر دونوں فریق دوریاستی حل کی بنیاد پر پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششیں نہیں کرتے ہیں تو خطے میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان نئے تنازعات پیدا ہونے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''یہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لیے ہی ایک مشکل وقت ہے اور اس دیرینہ تنازعے کو سنبھالنا ایک مشکل کام ہے۔ اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس پر قابو پا سکتے ہیں تو وہ غلطی پر ہے۔ تشدد کی ہر نئی لہر پہلے سے زیادہ خطرناک ہوتی جا رہی ہے''

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے کہا کہ ''فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کی جانی ضروری ہے تا کہ دونوں فریقوں کو برسرزمین ٹھوس اقدامات نظر آئیں اور انھیں پتا چلے کہ ان کا اپنی اپنی سرزمین پر ایک مستقبل ہے''۔

مس مغرینی نے مشرق وسطیٰ امن عمل کی بحالی کے لیے کوششوں کے ضمن میں گذشتہ سوموار کو فلسطینی صدر محمود عباس سے برسلز میں ملاقات کی تھی اور گذشتہ ہفتے برلن میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات چیت کی تھی۔

واضح رہے کہ گروپ چار امریکا، اقوام متحدہ ،روس اور یورپی یونین پر مشتمل ہے۔یہ سنہ 2002ء میں تشکیل دیا گیا تھا اور اس کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دیرینہ تنازعے کے حل کے لیے مشرقِ وسطیٰ امن عمل کو آگے بڑھانے میں معاونت کرنا ہے۔

اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات 2014ء سے مکمل طور پر منقطع ہیں اور امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی بھرپور کوششوں کے باوجود ان کو بحال نہیں کرایا جاسکا ہے۔