.

ایران کو شامی تنازعے یر ویانا مذاکرات میں شرکت کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں جاری تنازعے کا کوئی ممکنہ حل تلاش کرنے کی غرض سے ویانا میں جمعہ کو ہونے والے مذاکرات میں ایران کو بھی مدعو کیا جائے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ سیکرٹری آف اسٹیٹ جان کیری ویانا مذاکرات میں شرکت کے لیے جائیں گے ۔وہاں سے وہ وسط ایشیائی ریاستوں کرغیزستان ،ازبکستان ،قازقستان ،تاجکستان اور ترکمانستان کے دورے پر روانہ ہوجائیں گے۔

جان کربی نے بتایا ہے کہ ''ویانا میں شامی بحران پر بات چیت کے دوسرے مرحلے میں دس بارہ مندوبین کی شرکت متوقع ہے۔ایران کو بھی ویانا مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔یہ اب ایرانی لیڈروں پر منحصر ہے کہ وہ ان مذاکرات میں شرکت کے لیے آتے ہیں یا نہیں''۔

دوسری جانب ایک امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ امریکا اور روس کی جانب سے ایران کو پہلے ہی ان مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی جاچکی ہے اور ایران کے نائب وزیرخارجہ امیرعبداللہیان ان مذاکرات میں شرکت کریں گے جبکہ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کی شرکت پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف اور جواد ظریف نے منگل کے روز ٹیلی فون پر شامی بحران کے حل کے طریقوں پرتبادلہ خیال کیا تھا۔لاروف نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری سے بھی فون پر شامی بحران پر بات چیت کی تھی۔

جان کربی کا کہنا تھا کہ ''مختلف ممالک کو امید ہے کہ وہ شام میں جاری بحران کے حل اور انتقال اقتدار کے لیے ایک کثیر جہت فریم ورک سمجھوتے پر متفق ہوجائیں گے اور اس کے نتیجے میں بشارالاسد کی قیادت کے بغیر شام میں عبوری حکومت کا قیام ممکن ہوسکے گا''۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ ویانا میں جمعہ کو دو طرفہ اور کثیر جہت بات چیت ہوگی اور اس کے شرکاء کے بارے میں ابھی کام کیا جارہا ہے۔ایک مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ ایران کو مذاکرات میں مدعو کرنے سے متعلق فیصلے کے بارے میں سب سے پہلے سعودی عرب سے تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی اطلاع کے مطابق صدر براک اوباما اور سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے منگل کے روز ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران شام میں اعتدال پسند حزب اختلاف کی حمایت میں اضافے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا انھوں نے ویانا میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے بھی کوئی بات چیت کی ہے۔

امریکا ایران کی جانب سے شامی صدر بشارالاسد اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی حمایت کی مخالفت کرتا رہا ہے۔تاہم اس کا کہناہے کہ ایران کو شام کے مستقبل کے حوالے سے مذاکرات میں شریک کیا جانا چاہیے۔امریکا کے ایک اعلیٰ فوجی افسر نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ شام میں دو ہزار کے لگ بھگ ایرانی فوجی صدر بشارالاسد کی فوج کی مدد کررہے ہیں۔