.

لاعلمی میں ایردوآن کی تصویر پھاڑنے پر دو بچوں کا ٹرائل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کہنے کو ترکی ایک جمہوری ملک اور اسلام پسند حکمراں جماعت "آق" عوامی پارٹی اور جمہوری نظریات پر یقین رکھتی ہے مگر پارٹی کے موجودہ سربراہ اور صدر مملکت رجب طیب ایردوآن اپنی تصویر پھاڑںے پر بچوں کو بھی معاف نہیں کرتے اور ان کا بھی ٹرائل کیا جاتا ہے۔

جی ہاں ! ترکی میں 12 اور 13 سال کی عمر کے دو بچوں پر لاعلمی میں صدر ایردوآن کا تصویر پوسٹر پھاڑنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ انہیں جلد ہی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ دیار بکر کے پراسیکیوٹر نے دونوں بچوں کو چار اور 14 ماہ قید کی سزا کی سفارش بھی کر دی ہے۔

اخبار"حریت" کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں بچے تصویر پوسٹر پھاڑ کر صدر ایردوآن کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس لیے انہیں اپنے کیے کی سزا ملے گی۔

اخباری رپورٹ کے مطابق دونوں بچوں کو پولیس نے رواں سال مئی میں دیار بکر کی ایک کھلی شاہراہ کے اطراف میں لگے صدر ایردوآن کے ایک پوسٹر کو اتار کرپھاڑنے اور اسے سڑک پر پھینکنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ دیار بکر ملک کے جنوب مشرقی علاقوں کا حصہ ہے جہاں پر کُرد آبادی کی اکثریت ہے۔

بچوں کا تصویر سے لاعلمی کا اظہار

میڈٰیا رپورٹس کے مطابق ایک بچے کو جب مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے کہا کہ ہم نے سڑک کے اطراف میں لگے پوسٹروں میں سے ایک پوسٹر اتار کر پھاڑا تھا مگر ہمیں نہیں معلوم کہ وہ تصویر کس کی تھی۔

بچوں کے وکیل اسماعیل قرقماز کا کہنا ہے کہ ان کے ننھے موکلین کے مقدمہ کی سماعت 8 دسمبر کو ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدر مملکت دو بچوں کے والدین پر اس بات پر مقدمہ کرتے ہیں کہ ان کےبچوں نے تصویر پھاڑی دی تھی تو یہ قانون کی بھی توہین ہے۔

خیال رہے کہ ترکی کے نئے قانون کے آرٹیکل 299 میں اس بات کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ اگر کوئی بچہ صدر مملکت کی تصویر کی توہین کا مرتکب قرار پاتا ہے تو اسے چار سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

رجب طیب ایردوآن پچھلے سال اگست میں ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ ترک اپوزیشن ان پر آمرانہ پالیسیوں کو فروغ دینے کا بھی الزام عاید کر رہی ہے۔ اپنے دورحکومت میں طیب ایردوآن پر صحافتی اداروں پر پابندیوں اور پولیس کے ذریعے اپوزیشن اور سیاسی مخالفین کو دبانے کی پالیسی اپنائی جس پرانہیں سخت عوامی دبائو کا سامنا کرنا پڑا۔

بچوں پر تصویر کی توہین کا کیس پہلی بار سامنے نہیں آیا بلکہ پچھلے سال دسمبر میں بھی ایک 17 سالہ طالب علم کو صدر مملکت کی تصویر پھاڑنے کے الزام میں گرفتار کیا اور اسے گیارہ ماہ تک قید کی سزا سنائی گئی تھی۔