.

ویانا مذاکرات شام کو تباہی سے بچانے کا موقع ہیں:جان کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے خبردار کیا ہے کہ ویانا میں شام میں جاری خانہ جنگی پر ہونے والے مذاکرات سے تنازعے کا کوئی فوری حل تو برآمد نہیں ہوگا لیکن یہ امید کا ایک موقع ضرور ہیں۔

انھوں نے ویانا روانہ ہونے سے قبل مشرق وسطیٰ پالیسی سے متعلق تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''شام میں تنازعے کے حل کے لیے پیش رفت کوئی آسان نہیں ہوگی ،یہ خودکار طریقے سے بھی نہیں ہوگی مگر سیاسی حل کی راہ کھولنے کے لیے یہ سب سے بہترین موقع ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت شام میں جو چیلنج درپیش ہے،وہ جہنم کی جانب جانے والے راستے سے کم نہیں۔انھوں نے کارنیگی وقف برائے بین الاقوامی امن کے زیر اہتمام مذاکرے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویانا مذاکرات میں شامی صدر بشارالاسد کا اتحادی ملک ایران پہلی مرتبہ شرکت کرے گا اور ان کا فوجی پشتی بان روس بھی ان مذاکرات کا حصہ ہوگا۔

امریکا کی روس کے ساتھ حالیہ دنوں میں روسی طیاروں کے شام میں اعتدال پسند باغی گروپوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے پر کشیدگی بھی چل رہی ہے لیکن اس کے باوجود مسٹر جان کیری کا کہنا تھا کہ امریکا اور روس شام میں جاری بحران میں بہت سے امور میں یکساں موقف کے حامل ہیں اور وہ ایک متحد اور سیکولر شام چاہتے ہیں جہاں شہریوں کو انتخابات کے ذریعے اپنے لیڈر کے انتخاب کا موقع ملے۔

انھوں نے کہا:''ہم نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ شامی تنازعے کے سیاسی حل کی صورت ہی میں ملک کو بچایا جاسکتا ہے اورمطلوبہ مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں''۔ ان کا کہنا تھا کہ ''صرف ایک شخص بشارالاسد کو امن کی راہ میں حائل ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے''۔

یادرہے کہ شامی تنازعے پر جون 2012ء اور جنوری ،فروری 2014ء میں مذاکرات کے دو ادوار ہوچکے ہیں۔انھیں جنیوا اول اور جنیوا دوم کا نام دیا گیا تھا۔ان مذاکرات میں شامی حکومت اور حزب اختلاف نے قومی اتحاد کی ایک عبوری حکومت کے قیام اور بشارالاسد کی رخصتی سے اتفاق کیا تھا۔

لیکن بشارالاسد اب تک روس ،ایران اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی مدد سے اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی عرب ممالک اعتدال پسند شامی باغیوں کی دامے،درمے ،سخنے مدد کررہے ہیں اور سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی کررہے ہیں۔جان کیری کا کہنا تھا کہ شام میں داعش کی شکست اور جنگ کا خاتمہ امریکا کا مقصد ہے۔

امریکا نے شام میں جاری تنازعے کا کوئی ممکنہ حل تلاش کرنے کی غرض سے ویانا میں جمعرات اور جمعہ کو ہونے والے مذاکرات میں ایران کو پہلی مرتبہ شرکت کی دعوت دی ہے۔ان میں دس بارہ ممالک کے مندوبین کی شرکت متوقع ہے اور ان کے درمیان شامی تنازعے پر دو طرفہ اور کثیر جہت بات چیت ہوگی ۔

امریکا نے ایران کو مذاکرات میں مدعو کرنے سے پہلے سعودی عرب کو اعتماد میں لیا تھا کیونکہ سعودی عرب ایران کی شام ،عراق اور یمن میں فوجی مداخلت کی وجہ سے امن مذاکرات میں شریک کرنے کی مخالفت کرتا رہا ہے اور اس کا یہ موقف رہا ہے کہ ایران کا شامی بحران کے پُرامن حل میں کوئی کردار نہیں ہے کیونکہ وہ وہاں خود ایک مسلح فریق ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی کے بہ قول:'' مختلف ممالک کو امید ہے کہ وہ شام میں جاری بحران کے حل اور انتقال اقتدار کے لیے ایک کثیر جہت فریم ورک سمجھوتے پر متفق ہوجائیں گے اور اس کے نتیجے میں بشارالاسد کی قیادت کے بغیر شام میں عبوری حکومت کا قیام ممکن ہوسکے گا''۔