.

ترکی کی شامی کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی

کردوں نے تل ابیض کو خالی نہیں کیا،تو ہر ضروری اقدام کریں گے: صدرطیب ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے اتحادی شامی کرد باغیوں کو سرحدی شہر تل ابیض میں خودمختاری کے اعلان اور ان کی پیش قدمی روکنے کے لیے فوجی کارروائی سمیت تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

ترک صدر نے کنال 24 ٹیلی ویژن چینل اسٹیشن سے نشر کی گئی تقریر میں کرد ملیشیا پر شام کے شمالی علاقے میں عربوں اور ترکمن باشندوں کی نسلی تطہیر کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ مغرب کی جانب سے شامی کرد ملیشیا کی حمایت سے دہشت گردی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ ''یہ ایک انتباہ ہے،اگر آپ کسی بھی جگہ ایسا کرنے کی کوشش کریں گے تو ترکی کو کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی اور ہم جو بھی ضروری ہوا،وہ کریں گے''۔انھوں نے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ شامی کردوں کو نشانہ نہ بنانے کے لیے امریکا کے مطالبے کو مسترد کردیں گے۔

نیٹو کا رکن ملک ترکی شام میں امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ہے لیکن وہ شامی کردوں کی جماعت ڈیموکریٹک یونین پارٹی (پی وائی ڈی) کی ملک کے شمال میں پیش قدمی پر تشویش کا اظہار کررہا ہے اور اس کو اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ گردان رہا ہے۔اس کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اس طرح ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں علاحدگی کی تحریک چلانے والے کرد باغیوں کو تقویت مل سکتی ہے۔

ترکی کے لڑاکا طیاروں نے حال ہی میں شامی کردوں کی مسلح ملیشیا پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو دریائے فرات کا مغربی حصہ عبور کرنے پر پہلے انتباہ کیا تھا اور پھر فضائی حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔

وائی پی ڈی کے جنگجوؤں نے جون میں امریکا کی قیادت اتحادی ممالک کے فضائی حملوں کی مدد سے تل ابیض پر قبضہ کرلیا تھا اور وہاں سے داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کیا تھا۔اسی مہینے انھوں نے اس شہر کو بھی اپنے خود مختار علاقے میں شامل کر لیا ہے جہاں وہ اپنی حکومت چلا رہے ہیں۔

صدر ایردوآن کا کہنا تھا کہ اگر کرد جنگجو تل ابیض کو خالی کردیتے ہیں اور وہ اپنا خود مختار علاقہ نہیں بناتے ہیں تو اس سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن اگر ان کی موجودہ روش برقرار رہتی ہے تو پھر جو ضروری ہوا ،وہ کیا جائے گا یا پھر ہمیں سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ترکی عراقی کردستان کی طرح کا شام میں خود مختار کرد علاقہ نہیں چاہتا ہے۔