.

اقوام متحدہ: اسرائیل، فلسطین مذاکرات کی بحالی پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک میں ایک قرارداد مسودہ تقسیم کیا گیا ہے جس میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی ،مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کو منجمد کرنے اور اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے الزام میں ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ نہ چلانے پر زوردیا گیا ہے۔

مجوزہ قرارداد کا مسودہ نیوزی لینڈ نے تیار کیا ہے اور اس کو اقوام متحدہ میں متعیّن اسرائیلی اور فلسطینی سفیروں کو بھی بھیجا گیا ہے۔اس مجوزہ قرارداد میں اسرائیل اور فلسطینیوں پر زور دیا گیا ہے کہ ''وہ تشدد کا خاتمہ کریں،امن مذاکرات کی تیاری کریں اور دو ریاستی حل کا اعلان کریں جو امن کی جانب جانے کا واحد قابل اعتماد راستہ ہے''۔

اس مسودے میں فلسطینیوں اور اسرائیل دونوں کو خوش کرنے کے لیے دو حساس ایشوز کو بھی زیر غور لایا گیا ہے۔اسرائیل سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کا سلسلہ بند کردے۔آئی سی سی میں غزہ میں جنگی جرائم پر اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کے دائر کردہ مقدمے کو روکنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔

قرار داد میں دس نکات پر مشتمل اقدامات تجویز کیے گئے ہیں اور ان میں دونوں فریقوں پر زوردیا گیا ہے کہ وہ ایسی کارروائیوں سے گریز کریں جن سے امن کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔اسرائیل سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے مکانوں کو مسمار کرنے کا سلسلہ بند کردے۔

نیوزی لینڈ کے وزیرخارجہ مرے میکلی نے گذشتہ ہفتے سلامتی کونسل میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایسی قرارداد لانا چاہتے ہیں جس سے بحران کے حل کے لیے مذاکرات شروع کرنے میں مدد مل سکے۔

اس سے پہلے فرانس نے اسرائیلی ،فلسطینی تنازعے سے متعلق سلامتی کونسل میں ایک بیان کا مسودہ تقسیم کیا تھا لیکن رکن ممالک کے درمیان اس پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا۔واضح رہے کہ سلامتی کونسل نے 2009ء کے بعد اسرائیل ،فلسطینی امن عمل کے حوالے سے کوئی قرارداد منظور نہیں کی ہے۔17 ستمبر کو اس نے مقبوضہ بیت المقدس میں تشدد کے واقعات اور مسجد الاقصیٰ میں کشیدگی کے تناظر میں ایک بیان کی منظوری دی تھی جس میں دونوں فریقوں سے ضبط وتحمل سے کام لینے کی اپیل کی گئی تھی۔

اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات 2014ء سے مکمل طور پر منقطع ہیں اور امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی بھرپور کوششوں کے باوجود ان کو بحال نہیں کرایا جاسکا ہے۔اب عالمی لیڈر ایک مرتبہ پھردونوں فریقوں پر مذاکرات کی بحالی پر زور دے رہے ہیں۔