.

شام مذاکرات میں تمام فریق لچک کا مظاہرہ کریں: بین کی مون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے ویانا میں آج جمعہ کو شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں شریک تمام ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ لچک کا مظاہرہ کریں۔انھوں نے شامی تنازعے پر بات چیت میں ایران کی پہلی مرتبہ شرکت کا خیرمقدم کیا ہے۔

انھوں نے سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''میری اس سے حوصلہ افزائی ہوئی ہے کہ اعلیٰ سطح کے لیڈر شام کی صورت حال پر بات چیت کے لیے مل بیٹھ رہے ہیں''۔وہ ایران کی مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔

انھوں نے کہا:''مجھے امید واثق ہے کہ وہ لچکدار رویے کے احساس کے ساتھ اس تنازعے کو حل کرلیں گے۔خواہ ان کے سیاسی نقطہ نظر اور حکمت عملی کے حوالے سے اختلافات کچھ ہی رہے ہوں،انھیں متحد ہونا چاہیے''۔

بین کی مون نے ویانا مذاکرات میں شریک پانچ اہم ممالک ایران ،روس ،سعودی عرب ،ترکی اور امریکا کے درمیان شامی صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے اختلافات کے تناظر میں کہا کہ انھیں اپنے اپنے قومی مفادات کو پیش نظر رکھنے کے بجائے عالمی قیادت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''جتنا عرصہ یہ ممالک اپنے اپنے قومی تناظر پر اصرار کرتے رہیں گے ،اتنا ہی مصائب کا شکار ہونے والے لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا اور اس سے پوری دنیا ہی متاثر ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ ''میں ہمیشہ سے یہ کہتا رہا ہوں کہ تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے''۔

امریکا نے ان مذاکرات میں ایران کو پہلی مرتبہ شرکت کی دعوت دی ہے اور اس کے وزیر خارجہ جواد ظریف شامی تنازعے پرعالمی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں شرکت کررہے ہیں۔تاہم شامی حزب اختلاف نے ایران کو مدعو کرنے پر اعتراض کیا ہے کیونکہ وہ شامی صدر بشارالاسد کی مسلح حمایت کررہا ہے۔

ان مذاکرات میں شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد اور مسلح باغیوں کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔شامی قومی اتحاد کے ایک سرکردہ رہ نما جارج صابرہ نے کہا ہے کہ شامیوں کو ویانا مذاکرات میں شرکت کی دعوت نہ دینا غیرسنجیدگی کا مظہر ہے اور اس اجلاس کا یہ سب سے کمزور پہلو ہے کیونکہ اس میں شامیوں کے ایشوز کے بارے میں ان کی غیر موجودگی میں تبادلہ خیال کیا جائے گا''۔