.

فلسطینی زمین پر قائم سینکڑوں یہودی گھر قانونی قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی وزارت داخلہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی زمین پر غیر قانونی طور پر قائم شدہ چار یہودی بستیوں میں تعمیر شدہ 800 مکانات کو قانونی حیثیت دے دی ہے۔

وزارت داخلہ کے بیان میں بتایا گیا کہ ان مکانات میں سے 377 مکان یاکیر بستی، 187 ایتمار بستی، 94 شمالی مغربی کنارے میں واقع شیلو بستی اور 97 جنوبی مغربی کنارے میں موجود سنسنہ یہودی بستی میں موجود تھے۔

یہ فیصلہ دو ہفتے قبل کرلیا گیا تھا مگر فلسطینی عوام کے ردعمل سے بچنے کی کوشش میں اس خبر کو چھپا کررکھا گیا مگر بالآخر دو ہفتے بعد جمعہ کے روز اسرائیلی میڈیا کو اس فیصلے کی بھنک پڑ گئی اور انہوں نے اسے عام عوام کے سامنے رکھا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی اور فلسطینی شہریوں کے درمیان کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے۔ اسی مہینے کے اوائل سے جاری تشدد کی لہر میں اسرائیلی جارحیت کے ہاتھوں کم از کم َ63 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ فلسطینیوں کی مزاحمت کے نتیجے میں 9 اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں۔

بین الاقوامی برادری غرب اردن میں قائم تمام یہودی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہے مگر اسرائیلی حکومت نے یہاں پر بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے تئیں قانونی اور غیر قانونی بستیاں قرار دے رکھی ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو بستیوں میں توسیع کے مسئلے پر بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے مگر ان کی حکومت ایسے منصوبے وقتا فوقتا جاری کرتی رہتی ہے۔

اسرائیلی یہودی بستیوں کی توسیع پر نظر رکھنے والے ادارے 'پیس نائو' [Peace Now] کی ایک ترجمان کا کہنا ہے "اگرچہ ان مکانات کا شمار نئی تعمیرات میں نہیں ہوتا ہے مگر یہ ان علاقوں میں قائم ہیں جہاں پر ابھی اسرائیلی شہری منصوبہ بندی میں بھی مکانات کی تعمیر کا منصوبہ نہیں ہے۔"

ترجمان کا کہنا تھا " ان مکانات کو قانونی حیثیت دینے کا اتنا اثر نہیں ہوتا ہے جتنا نئی توسیع کے اعلان کا ہوگا مگر بلاشبہ یہ عمل نیتن یاہو حکومت کی طرف سے ایک جارحانہ عمل ہے۔"

اسرائیل نے آخری بار جولائی میں نئی توسیع کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا کہ جب مغربی کنارے کی بیت ایل بستی میں 300 نئے گھروں کی تعمیر کی منظوری دی گئی تھی۔