.

30 دنوں میں ایران کے 40 فوجی، اجرتی قاتل شام میں قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام کے محاذ جنگ میں #ایران کو بھی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق رواں ماہ [اکتوبر] کے دوران #بشار_الاسد کو بچانے کے لیے آئے 40 ایرانی فوجی اور ان کے دیگر اجرتی قاتل باغیوں کے حملوں میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

"لیفینٹن گروپ" کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر کے مہینے میں شام میں ایرانی فوج کے 30 اہلکار اور 10 افغانی اور پاکستانی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ شام میں ہلاک ہونے والے ایران کی جانب سے شام بھجوائے گئے تین جنگجوئوں کی شہریت کی شناخت نہیں ہو سکی۔ مقتولین میں ایک بریگیڈیئر جنرل، ایک کرنل اور ایک کیپٹن کے عہدے کا افسر بھی شامل ہے۔

ایرانی #پاسداران_انقلاب کے شام میں لڑنے والے جنگجوئوں کو چار گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلے گروپ میں بری فوج کے اہلکار شامل ہیں جو امام الحسین 161 بریگیڈ اور علاوہ علی بن ابی طالب بریگیڈ 17 سے وابستہ ہیں۔ فاطمیون ملیشیا میں افغان جنگجو اور پاکستانی جنگجوئوں کو زینبیون بریگیڈ میں رکھا جاتا ہے۔

دوسرے گروپ میں بری فوج کے اہلکار شامل ہیں جو علی نجف اشرف بریگیڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ شام میں لڑنے والے ایرانی جنگجوئوں میں تیسرے گروپ اسپیشل فورسز کے کمانڈوز پر مشتمل ہے۔ یہ اہلکار پاسداران انقلاب کے زیر انتظام صابرین ملیشیا، القدس فورس، انصار المہدی اور پاسیج ملیشیا سے وابستہ ہیں۔