.

داعش نے دو شامی سماجی کارکن ترکی میں قتل کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام '#داعش' کے دہشت گردوں نے مبینہ طور پر #شام کے دو سماجی کارکنوں کو #ترکی میں قتل کردیا ہے۔

"#الرقہ میں خاموش قتل عام" نامی ایک مہم کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ مہم سے وابستہ سماجی کارکنوں ابراہیم عبدالقادر اور اس کے ساتھی فارس حمادی کو ترکی کے اورفا شہر میں ایک فلیٹ میں قتل کیاگیا۔ گذشتہ روز دونوں کو فلیٹ میں مردہ پایا گیا اور دونوں کے سرتن سے جدا کیے گئے تھے۔

"الرقہ میں خاموش قتل" مہم کے بانی ابو محمد نے بتایا کہ ابراہیم عبدالقادر ان کے ساتھ ترکی میں کام کررہے تھے۔ انہیں داعش ہی نے قتل کیا ہے۔

ابو محمد نے بتایا کہ مقتولین کا ایک تیسرا ساتھی حمادی کے گھرپرآیا اور اس نے بار بار دروازے پر دستک دی مگر اندر سے کوئی نہ آیا۔ جب وہ اندر داخل ہوئے تو دونوں خون میں لت پت پڑے تھے اور ان کے سرتن سے جدا کردیے گئے تھے۔ الرقہ میں داعش کے قبضے کے بعد ابراہیم عبدالقادر ترکی چلے گئے تھے جہاں وہ اپنے دوست فارس حمادی کے گھر میں رہ رہے تھے۔

شام میں موجودگی کے دوران داعش نے عبدالقادر کو متعدد مرتبہ گرفتار کرنے اور اسے قاتلانہ حملے میں مارنے کی کوشش کی تھی مگر دہشت گرد شام میں اسے مارنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

خیال رہے کہ "الرقہ میں خاموش قتل عام" نامی مہم اپریل 2014ء سے جاری ہے جو خفیہ مقام سے شام بالخصوص الرقہ شہر میں ڈھائے جانے والے داعش کے مظالم کو بے نقاب کرتی رہتی ہے۔ اس مہم سے وابستہ کئی صحافیوں اور کارکنوں کو داعشی جنگجو پہلے بھی قتل اور اغوا کرچکے ہیں۔

درایں اثناء ترک خبر رساں اداروں نے خبردی ہے کہ ترکی میں دو شامی صحافیوں کو پراسرار طورپر قتل کیا گیا ہے۔ پولیس نے قتل کے شبے میں سات شامی باشندوں کو گرفتار کیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔