.

مصر: تباہ شدہ روسی جہاز سے 100 لاشیں نکال لی گئیں

روسی صدر نے یکم نومبر کو ملک میں سوگ کا اعلان کر دیا، لواحقین سے تعزیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری علاقے جزیرہ نما سیناء میں ہفتے کے روز حادثے کا شکار ہونے والے روسی مسافر طیارے کے ملبے سے پانچ بچوں سمیت ایک سو افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں میں مصروف مصری ریسکیو ٹیم کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے سامنے ایک افسوسناک منظر ہے جس میں ہلاک شدگان کی نعشیں زمین پر ہیں۔ سیٹوں کے ساتھ بندھے یہ افراد اب اس دنیا میں نہیں رہے۔"

انہوں نے مزید بتایا "کہ مسافر طیارہ گرنے کے بعد دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ جہاز کی دم والے حصے میں آگ لگ گئی تھی جبکہ دوسرا بڑا حصہ چٹان سے ٹکرایا۔ ہم نے جہاز کے ملبے سے ابتک ایک سو لاشیں نکالی ہیں جبکہ باقی جہاز کے اندر ہی ہیں۔"

العربیہ کی نمائندہ نے بتایا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے روسی مسافر جہاز کا بلیک باکس مل گیا ہے۔ ایک سیکیورٹی اہلکار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'جہاز کے ملبے میں کوئی بھی شخص زندہ نہیں بچا۔'

پیوٹین کا اظہار تعزیت، سوگ کا اعلان

ادھر ایک روسی خبر رساں ادارے نے کریملین میڈیا آفس کا ایک بیان نشر کیا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹین نے طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے یکم نومبر کو سوگ کا اعلان کیا ہے۔ روس نے جہاز گرنے کے واقعے کی تحقیقات کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔

روسی صدر نے حکم دیا ہے کہ وہ حادثے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کے لواحقین کو فوری مدد فراہم کریں۔ انہوں نے حادثے کے بعد روسی امدادی ٹیمیں مصر بھیجنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

کریملین کے بیان کے مطابق پیوٹین نے ایمرجنسی امور کے وزیر ولادی میر بوٹچوف کو حکم دیا ہے کہ وہ مصری حکام کے ساتھ بات کرنے کے بعد ایمرجنسی وزارت کے جہاز مصر بھجوائیں تاکہ وہ طیارہ حادثہ کے مقام پر مدد کر سکیں۔

روسی خبر رساں اداروں کے مطابق توقع ہے کہ روسی وزیر ٹرانسپورٹ مکسیم سولوکوف بھی جلد حادثے کی جگہ روانہ ہو رہے ہیں۔

روسی مسافر طیارہ سیناء میں گر کر تباہ، 224 مسافر ہلاک

قبل ازیں مصری وزیر اعظم شریف اسماعیل کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں تصدیق کر دی گئی تھی کہ ایک روسی فضائی کمپنی کا مسافر بردار ہوائی جہاز مصری جزیرہ نما سیناء میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

یہ مسافر بردار طیارہ مصر کے سیاحتی مقام شرم الشیخ سے روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اس میں کل 224 افراد سوار تھے۔ ہوا بازی کے مصری محکمے کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق یہ ایک چارٹرڈ پرواز تھی اور اس میں 217 مسافر اور عملے کے سات افراد سوار تھے۔ ہلاک ہونے والے مسافروں میں سترہ بچے شامل ہیں۔ روس کے شہری ہوا بازی کے محکمے کے ایک اہلکار سیرگئی لزاولسکی نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ تباہ ہونے والا مسافر طیارہ ہفتے کی صبح چھ بجے کے قریب شرم الشیخ کے ہوائی اڈے سے روانہ ہوا تھا۔

اس ہوائی جہاز کا پرواز کے فوری بعد کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ روسی نیوز ایجنسی RIA کا شروع میں دعویٰ تھا کہ طیارہ قبرص کی فضا میں راڈار اسکرین پر سے غائب ہوا تھا۔ تباہ ہونے والا ہوائی جہاز ایئر بسA-321 طرز کا تھا۔ یہ روسی فضائی کمپنی ’کوگالی ماوایا‘ کی ایک پرواز تھی۔ اس چارٹرڈ پرواز میں سوار تمام روسی شہری مصر کے بحیرہ احمر کے ساحلی و سیاحتی مقام شرم الشیخ چھٹیاں منانے آئے ہوئے تھے۔ تباہ شدہ ہوائی جہاز کا ملبہ وسطی سیناء کے پہاڑی علاقے میں ملنے کی مصری حکومتی اہلکاروں نے تصدیق کر دی ہے۔ قاہرہ میں حکام کے مطابق جزیرہ نما سینائی میں امدادی ٹیمیں ملبہ ملنے کی جگہ کی طرف روانہ کر دی گئی ہیں۔

وزیر اعظم شریف اسماعیل نے اس طیارے کی تباہی کے حوالے سے ملکی کابینہ کی ایک کرائسس کمیٹی قائم کر دی ہے۔ مصری وزیر اعظم بعض وزراء اور ہوا بازی سے متعلق اداروں کے سربراہوں کے ساتھ حادثے کی تباہی کے تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مصری محکمہٴ شہری ہوا بازی کا کہنا ہے کہ اس حادثے کی وجوہات کے تعین کے لیے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ روسی حکام بھی تباہی کا شکار ہونے والی پرواز کے مسافروں کے کوائف جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ قاہرہ میں روسی سفارت خانے کے مطابق ضروری معلومات جمع کرنے کے بعد عام کر دی جائیں گی۔

اس سے قبل یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس مسافر طیارے کے ساتھ کنٹرول ٹاور کا رابطہ ترکی کی فضائی حدود میں بحال ہو گیا تھا۔ تب مصر میں فضائی حادثات کے قومی کمیشن کے سربراہ ایمن المقدم نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا تھا کہ روسی فضائی کمپنی کے ایک ایجنٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ لاپتہ ہوائی جہاز کو ترک فضائی حدود میں تلاش کر لیا گیا تھا۔ بعد کی پیش رفت نے بہرحال یہ دعویٰ غلط ثابت کر دیا۔