.

ویانا مذاکرات ختم، بشارالاسد کی گُتھی نہ سلجھ سکی!

امریکا اور روس کا شام کے سیکولر تشخص پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ روز #ویانا میں آٹھ گھنٹے تک جاری رہنے والے شام کے تنازعہ کے حل کے سلسلے میں مذاکرات بغیر کسی نتیجے تک پہنچے اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ بعض امور پر فریقین میں اتفاق دیکھا گیا مگر #بشار_الاسد کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ فرانسیسی وزیر خارجہ لوران فابیوس کا کہنا ہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران مذاکرات کا ایک اور دور بھی ہو گا۔

ویانا مذاکرات کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ #جان_کیری نے کہا کہ #امریکا اور #روس، #شام کو بحران سے نکالنے کے لیے سفارتی اور سیاسی مساعی جاری رکھنے پر متفق ہیں۔ نیز شام کی سالمیت کے ساتھ اس کے سیکولر تشخص کو بھی برقرار رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ شامی صدر بشار الاسد کی اقتدار سے فوری سبکدوشی ہوتی ہے یا نہیں مگر امریکا، شام کے تمام اداروں کو باقی رکھنا چاہتا ہے۔ اس پر روس کا بھی اتفاق ہے مگر صدر اسد کے سیاسی مستقبل کا معاملہ ہنوز حل طلب ہے۔

شام میں انتخابات اور دستور کی تدوین پر زور

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ ویانا مذاکرات میں شریک سترہ ممالک کے مندوبین نے شام کی سالمیت پراتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ شامی حکومت اور اپوزیشن کو مل کر ایک نئے دستور کی تیاری اور صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ ہم سب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ شام کی سالمیت کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے تمام ریاستی ادارے قائم رکھے جائیں گے۔ اختلافات کے باوجود مذاکرات کے شرکاء نے شام میں خون خرابہ روکنے اور تمام عسکری گروپوں کو بات چیت پر آمادہ کرنے کی کوششوں سے بھی اتفاق کیا گیا۔ تاہم شام میں #داعش کے خلاف صدر اوباما کی اعلان کردہ پالیسی کے تحت کارروائی جاری رہے گی۔ شمالی شام میں اپوزیشن کے اعتدال پسند گروپوں کی مدد سے داعش کو شکست دینے کے لیے مہم جاری رکھی جائے گی۔

بشارالاسد کے مستقبل کا فیصلہ حل طلب

ویانا اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے موجودہ شامی حکومت کے اتحادی روسی وزیر خارجہ #سرگئی_لاروف نے کہا کہ " ہم نے داعش کی سرکوبی کے لیے جاری مہم کو آگے بڑھانے سے اتفاق کیا ہے مگر ہم صدر بشار الاسد کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے کسی نکتے پر متفق نہیں ہو پائے ہیں۔ ہمارے خیال میں بشار الاسد کی سیاسی بقاء کا فیصلہ شامی عوام کو کرنا ہو گا۔

لافروف نے امریکا کی جانب سے زمینی فوج شام میں بھیجنے کی مخالفت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کی آمد سے شام میں دونوں ملکوں کی فوجوں میں ہم آہنگی بڑھانے میں مدد ملے گی اور یہ امکان ہے کہ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں امریکا اور روس کے درمیان باہمی اعتماد میں اضافہ ہو گا۔

خیال رہے کہ شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں پچھلے ایک ہفتے سے عالمی رہ نمائوں کی باہمی بات چیت اور صلاح مشورے جاری رہے ہیں۔ عراقی وزیر خارجہ نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ ویانا مذکرات میں سب کچھ ہوسکتا ہے بشار الاسد کے سیاسی مستقبل کا تعین ممکن نہیں۔ اس حوالے سے ویانا مذاکرات ناکام رہیں گے۔ شام کے تنازعہ کے حل کے لیے پہلی بار ایران کو بھی مذاکرات میں شامل کیا گیا۔ مگر شام او روس دونوں بشارالاسد کو اقتدار پر قائم رکھنے اورعبوری دور میں بھی انہیں ملک پر مسلط رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔