.

پارلیمانی انتخاب میں فتح، مگر ترکی صدارتی نظام کی راہ پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں صدر رجب طیب ایردوآن کی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ [اے کے پی]"آق" نے کل اتوار کے ہونے والے پارلیمانی انتخابات کا معرکہ سر کر لیا ہے، جس کے بعد اے کے پارٹی ایک بار پھر پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت ابھر کر سامنے آئی ہے۔

پارلیمانی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد صدر طیب ایردوآن نے اپنے ایک "ای میل" پیغام میں کہا ہے کہ عوام نے ان کی جماعت کو ووٹ دے کر بھاری اکثریت سے جتوانے کے بعد ملک میں استحکام اور اعتماد کی ایک نئی فضا قائم کی ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کرد لیبر پارٹی کو پیغام دیا کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کرے کیونکہ تشدد، دھمکیاں اور خون خرابہ قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے اصولوں کے تحت بقائے باہمی کے لیے زہرقاتل ہیں۔

خیال رہے کہ ترکی کی موجودہ حکومت ملک کے جنوب مشرق کے کرد اکثریتی علاقوں میں کرد ڈیموکریٹک پارٹی کے خلاف باقاعدہ حالت جنگ میں ہے۔ رواں سال جولائی میں حکومت اور لیبر پارٹی کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے بعد ترک فوج کرد جنگجوئوں کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔

ترک وزیراعظم احمد دائود اوگلو نے "آق" کے ہیڈ کواٹر سے جاری ایک بیان میں تمام سیاسی اور جمہوری قوتوں سے ملک میں ایک نئے دستور کی تدوین میں حصہ لینے پر زور دیا ہے۔

انقرہ میں قائم "آق" کے ہیڈ کواٹر میں اتوار کی شام جماعت کے ہزاروں حامی جمع تھے، جہاں اے کے پارٹی کی کامیابی کا جشن منایا جا رہا تھا۔ کارکنوں نے اس موقع پر انتخابی فتح کی خوشی میں آتش بازی بھی کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ترکی تمام ترک شہریوں کا ہے۔ یہ کسی ایک جماعت کا نہیں ہے۔ اس لیے ہم سب کو ملک کر ایک نئے قومی سول آئین کی تدوین کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ہم ترکی کو ایک ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جہاں سب مل جل کر رہیں۔ سب امن و سلامتی کے ساتھ رہیں اور جہاں کشیدگی اور تشدد نام کی کوئی چیز نہ ہو۔

ترکی کل یکم نومبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات اور ان کے نتائج ملک کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے نہایت اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں۔ آق پارٹی کی پارلیمنٹ میں واضح اکثریت کے بعد یہ امکان دکھائی دے رہا ہے کہ آق پارٹی نہ صرف تنہا حکومت سازی میں کامیاب ہو جائے گی بلکہ پارلیمنٹ ملک کے لیے پارلیمانی کے بجائے صدارتی نوعیت کے نظام پر مبنی نئے دستور کی تدوین کی طرف بھی اہم پیش رفت کرے گی۔

کرد اکثریتی علاقوں میں کشیدگی

گذشتہ روز ترکی میں پارلیمانی انتخابات کے دوران مجموعی طور پر حالات پرامن رہے تاہم ملک کے جنوب مشرقی شہر دیار بکر میں پولیس اور کرد شہریوں کے درمیان اکا دکا جھڑپیں ہوئیں۔

چونکہ کرد پارٹی بھی انتخابات میں 10 فی صد سے زائد ووٹ لینے میں کامیاب رہی ہے۔ یوں اس جماعت نے بھی پارلیمنٹ میں اپنی 59 سیٹیں حاصل کر لی ہیں۔ دیار بکر میں کرد جماعتوں اور آق کے حامیوں کے درمیان بھی بدمزگی پیدا ہوئی تھی تاہم پولیس نے اسے بروقت کنٹرول کر لیا تھا۔

کرد سیاسی کارکنوں نے سڑکوں پر ٹائر جلا کر آق پارٹی کے خلاف احتجاج کیا تاہم پولیس نے ہوائی فائرنگ کر کے مظاہرین کو منتشر کر دیا تھا۔