.

یواین: ملائشین اپوزیشن لیڈرانورابراہیم کی رہائی کا مطالبہ

ورکنگ گروپ نے سابق نائب وزیراعظم کی جیل کی سزا کو غیرقانونی قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے ایک ورکنگ گروپ نے ملائشیا کے سابق قائد حزب اختلاف انور ابراہیم کو سنائی گئی جیل کی سزا کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اڑسٹھ سالہ انورابراہیم کو اس سال فروری میں ایک عدالت نے اپنے ایک سابقہ ملازم کے ساتھ بدفعلی کے الزام میں قصور وار قرار دے کر پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔انھوں نے اس الزام کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ملائشین حکومت حزبِ اختلاف کی کامیابیوں سے خوف زدہ ہے اور اس نے اس کو دبانے کے لیے یہ جھوٹا مقدمہ بنایا ہے۔

غیر قانونی حراست سے متعلق کیسوں کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے اپنی یہ رائے دی ہے کہ انورابراہیم کو منصفانہ ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا تھا اور انھیں سیاسی وجوہ کی بنا پر پابند سلاسل کردیا گیا تھا۔گروپ نے قرار دیا ہے کہ ان کی حراست غیر قانونی ہے۔

ورکنگ گروپ نے 15 ستمبر کو اپنی یہ رائے دی تھی اور اس کو آج سوموار کو انورابراہیم کے خاندان نے کوالالمپور میں میڈیا کے لیے جاری کیا ہے۔ورکنگ گروپ نے کہا ہے کہ ''مسٹر ابراہیم کی غیر قانونی حراست کا یہ ازالہ ہوسکتا ہے کہ انھیں فوری طور پر جیل سے رہا کردیا جائے اور ان کے سلب کردہ سیاسی حقوق کو بحال کیا جائے''۔

اس نے مزید کہا ہے کہ ''انورابراہیم سے جیل میں کیا جانے والا سلوک بھی تشدد یا دوسرے ظالمانہ طریقوں کی ممانعت سے متعلق بین الاقوامی قواعد وضوابط کی صریحاً خلاف ورزی ہے''۔

ملائشیا کے سابق نائب وزیراعظم کے خاندان نے ورکنگ گروپ سے یہ شکایت کی تھی کہ انھیں گندگی سے اٹی ایک کوٹھڑی میں رکھا جارہا ہے اور ان کی کمر میں دائمی تکلیف ہے مگر اس کے باوجود انھیں فوم کا بالکل پتلا بچھونا دیا گیا ہے۔وہ بلند فشار خون کے مریض ہیں اور ان کے کندھوں میں بھی تکلیف ہے مگر انھیں ادویہ اور طبی سہولت نہیں دی جارہی ہے۔

ان کی اہلیہ وان عزیزہ وان اسماعیل نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''انور سخت درد میں مبتلا ہیں۔وہ جسمانی طور پر کمزور پڑ چکے ہیں اور خاص طور پر ان کے کندھوں میں درد ہے اور وہ دافع درد ادویہ لے رہے ہیں۔ان کی کوٹھڑی میں کیڑے مکوڑے اور پسو ہیں اور وہ انھیں کاٹتے رہتے ہیں''۔

ان کی بیٹی اور پارلیمان کی رکن نورالایضاح نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے فیصلے کو تسلیم کرے۔انھوں نے اپنے والد کی رہائی کا مطالبہ کرنے پر اقوام متحدہ کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کےوالد کے ساتھ اظہار یک جہتی کرکے وزیراعظم نجیب رزاق کو ایک واضح پیغام دیا گیا ہے۔

نجیب حکومت کی جانب سے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کا ورکنگ گروپ پانچ ارکان پر مشتمل ہے۔اس میں آسٹریلیا ،بینن ،میکسیکو،جنوبی کوریا اور یوکرین سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل ہیں۔

انورابراہیم ملائشیا کو ترقی کی راہ پر ڈالنے والے سابق وزیراعظم مہاتیرمحمد کے دورحکومت میں نوّے کے عشرے میں نائب وزیراعظم رہے تھے لیکن انہی کے دور میں پہلی مرتبہ ان کے خلاف اپنے ایک ملازم لڑکے کے ساتھ غیر فطری تعلق کے الزام میں مقدمہ قائم کیا گیا تھا اور انھیں حکمراں جماعت سے نکال دیا گیا تھا۔

وہ عدالت کی جانب سے سنائی گئی قید کی مدت پوری کرنے کے بعد سنہ 2004ء میں رہا ہوئے تھے۔انھوں نے ملائشیا کو منتشر حزبِ اختلاف کو اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔حزب اختلاف کی جماعتوں کی پارلیمانی انتخابات میں شاندار کارکردگی کے پیش نظر حکمراں طبقے کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا تھا جس کے بعد ایک مرتبہ پھر انورابراہیم کے خلاف ایک مرد سے بدفعلی کے الزام میں مقدمہ بنا دیا گیا تھا۔انھوں نے اس بھونڈے الزام کی تردید کی تھی اور امریکا کے علاوہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی انھیں اس مقدمے میں سنائی گئی سزا کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔