.

ترک لڑاکا طیاروں کی کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے لڑاکا طیاروں نے شمالی عراق میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

ترک فوج نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائی بمباری میں علاحدگی پسند دہشت گرد تنظیم کے ٹھکانوں ،غاروں اور اسلحہ ڈپوؤں کو تباہ کردیا گیا ہے۔

ترک فضائیہ نے عراق کی سرحد کے نزدیک واقع صوبے حکاری اور شمالی عراق میں قندیل کے پہاڑی علاقوں میں کرد باغیوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔سوموار اور منگل کو یہ کارروائی ترکی میں اتوار کو منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں حکمراں انصاف اور ترقی پارٹی (آق) کی واضح اکثریت سے کامیابی کے بعد کی گئی ہے۔

ترک فوج نے جولائی میں سرحدی قصبے سوروچ میں بم دھماکے کے بعد شام کے شمالی علاقے میں داعش اور شمالی عراق میں کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی مہم کا آغاز کیا تھا۔

ترک حکام نے انقرہ میں 10 اکتوبر کو دو خودکش بم دھماکوں کے بعد شام میں اور اندرون ملک میں داعش کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ان بم دھماکوں میں ایک سو دو افراد ہلاک اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ترکی کی جدید تاریخ میں یہ سب سے تباہ کن بم دھماکے تھے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے داعش کے علاوہ شامی انٹیلی جنس اور کرد باغیوں کو دہشت گردی کے اس حملے میں ملوّث قرار دیا تھا۔انھوں نے کردستان ورکرز پارٹی کے جنگجوؤں ،شامی خفیہ پولیس ''مخابرات'' اور شامی کرد ملیشیا پی وائی ڈی نے داعش کے ساتھ مل کر ان بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔