.

مصری پولیس کے آفیسر کلب میں خودکش حملہ

05 ہلاک، 10 زخمی، داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے علاقے شمالی سیناء میں بدھ کی صبح ہونے والے خودکش حملے میں پانچ پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دس دوسرے زخمی ہو گئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق حملے کی ذمہ داری مصر میں 'داعش' کی شاخ المعروف 'ولایہ سیناء' نے قبول کر لی۔

مصر کی سرکاری خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی 'مینا' کے مطابق ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی العریش کے پولیس کلب کے سامنے دھماکے سے اڑا دی۔ العریش شمالی سیناء کا ایک بڑا شہر ہے، جہاں فوج انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ نبرد آزما ہے۔

'العربیہ' کی خاتون نامہ نگار کے مطابق ابھی تک حملے کے بارے میں مصر فوج کے ترجمان نے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

جبکہ برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائیٹرز' نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا ہے کہ بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے پولیس کلب کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہوئے، تاہم ملہوکین کی حتمی تعداد کے بارے میں کسی دوسرے آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

سیکیورٹی فورسز نے دھماکے کی جگہ پر آمد ورفت کو محدود کرنے کے لئے رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں اور زخمیوں کو العریش کے ملڑی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ دھماکے کے وقت العریش میں شدید بارش ہو رہی تھی۔

مصری اخبار 'الیوم السابع' نے اہالیاں علاقہ کے حوالے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ انہوں نے بدھ کو علی الصباح زوردار دھماکا سنا جس سے پولیس آفیسرز کلب کا سامنے کا علاقہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ دھماکے کے بعد جائے حادثہ اور اردگرد متعدد گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور اردگرد کی عمارتوں اور سڑک سے گزرنے والی متعدد گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

'بوابہ الاھرام' نامی عرب ویب پورٹل نے شمالی سیناء میں ذرائع اور عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکا العریش شہر کی کوسٹل سٹریٹ میں واقع پولیس فورس کے کلب کے قریب ہوا۔ دھماکے کے بعد جائے حادثہ پر آگ لگ گئی جس کے بعد اہالیاں علاقہ میں خوف ہراس پھیل گیا۔

یاد رہے کہ انتہا پسند تنظیم 'داعش' [ولایہ سیناء] نے حالیہ چند دنوں کے دوران فوج اور پولیس کے سیکڑوں اہلکاروں کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔