.

کرد باغیوں کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے حالیہ عام انتخابات میں اپنی جماعت کی شاندار کامیابی کے بعد کہا ہے کہ کرد باغیوں کے خلاف فوجی مہم جاری رکھی جائے گی اور اس میں کوئی وقفہ نہیں آئے گا۔

انھوں نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ملک کے اندر اور باہر دہشت گرد تنظیم (کردستان ورکرز پارٹی ) کے خلاف بھرپورعزم کے ساتھ کارروائیاں جاری ہیں اور ان میں کوئی وقفہ نہیں آئے گا،ہم یہ جاری رکھیں گے''۔

ترک فوج نے گذشتہ اتوار کو ملک میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات کے بعد ملک کے جنوب مشرقی علاقوں اور شمالی عراق میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ٹھکانوں پرفضائی حملے تیز کردیے ہیں اور آج اس کے لڑاکا طیاروں نے شمالی عراق اور اس کے نزدیک واقع ترک پہاڑی علاقے داجلیچا میں پی کے کے کے سولہ اہداف کو بمباری میں نشانہ بنایا ہے۔

ترک فضائیہ نے سوموار اور منگل کے روز بھی عراق کی سرحد کے نزدیک واقع صوبے حکاری اور شمالی عراق میں قندیل کے پہاڑی علاقے میں کرد باغیوں کے متعدد ٹھکانوں،غاروں اور اسلحہ ڈپوؤں کو بمباری کرکے تباہ کردیا تھا۔

گذشتہ روز ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں چار کرد جنگجو مارے گئے تھے۔آج بدھ کو اسی علاقے میں جھڑپوں کے دوران ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔

ترک حکام نے بتایا ہے کہ جنوب مشرقی قصبے سلوان میں سکیورٹی فورسز اور کرد جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کے دوران ایک بیس سالہ نوجوان گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا ہے۔اس قصبے کے تین علاقوں میں حکام نے چوبیس گھنٹے کا کرفیو نافذ کررکھا ہے اور آج اس کا دوسرا دن تھا۔