.

تُرک ڈرامے ٹوائلٹ میں بہا دیں گے: شامی رکن پارلیمنٹ

شامی پارلیمنٹ نے ترک فلموں کی عربی ڈبنگ پر پابندی لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر #بشار_الاسد کی مخالفت کی پاداش میں شامی حکومت نے #ترکی میں تیار ہونے والے ڈراموں اور فلموں کی عربی میں ڈبنگ پر پابندی عاید کرتے ہوئے #شام میں ان پر پابندی عاید کردی ہے۔ اسد حکومت کے ایک رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ وہ ترکی کے ڈراموں کو ٹوائلٹ میں بہا دیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں شامی پارلیمنٹ میں کثرت رائے سے ایک فیصلہ کیا جس میں کہا گیا کہ #شوبز سے تعلق رکھنے والی کوئی تنظیم یا کمپنی ترک فلموں کی عربی میں ڈبنگ نہیں کرے گی اور نہ ہی انہیں شام کے ٹی وی چینلوں پر نشرکیا جائے گا۔

دوسری جانب فن کاروں اور عوامی حلقوں نے بشار حکومت اور ان کے منتخب افراد پر مشتمل پارلیمنٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے محض سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔ حکومتی فیصلے کے رد عمل میں ذرائع ابلاغ میں اس کا خوب مذاق بھی اڑایا جا رہا ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر ترک حکومت کی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

"ڈراما نیوز" کے فیس بک کے صفحے پر اس حوالے سے تبصروں کی بھرمار ہے۔ کچھ لوگوں نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ بعض نے بشار حکومت پر خوب غصہ نکالا ہے اور کچھ نے اس فیصلے کو بے معنیٰ قرار دیا ہے۔ بہت سے شہریوں نے اس کا خوب مذاق اڑایا ہے۔"تمارا" نامی ایک خاتون لکھتی ہیں کہ "شامی عوام بشارالاسد حکومت کےفیصلے کو ٹوائلٹ میں بہا دیں"۔

میلانی دیمیرجیان لکھتے ہیں کہ 'شامی عربی میں ترک ڈراموں کی ڈبنگ نہ تو کیا فرق پڑتا ہے ہم ترکی میں ہی دیکھ ہیں گے'۔ ایک خاتون نے مذاق اڑایا اور کہا کہ اب تو روس ہمارا دوست ٹھہرا۔ تو کیا بشارالاسد یہ چاہتے ہیں کہ ہم عربی کے بجائے روسی زبان میں ڈراموں کی ڈبنگ کریں۔

عوامی تبصروں میں پارلیمنٹ "مجلس الشعب" مجلس النھب یعنی لوٹ مار کونسل کا نام دے کر اس پرتنقید کی گئی ہے۔

ترک ڈراموں کی جگہ ایرانی فلمیں چلیں گی

شامی پارلیمنٹ کے رکن اور بشارالاسد کے ٹائوٹ احمد شلاش نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ"فیس بک" کے ٖصفحے پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ نے ترک ڈراموں کی عربی میں ڈبنگ روک کر درست فیصلہ کیا ہے۔ ہمارے ملک میں ترکی کے ڈرامہ چلانا یا شامی عربی لہجے میں ان کی ڈبنگ کرنا ناقابل معافی جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے پر چیخ پکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

احمد شلاش کا کہنا ہے کہ ترکی ڈراموں کی عربی میں ڈبنگ کرنے اور انہیں شام میں نشر کرنے والوں کو نہ صرف کڑی سزائیں دی جائیں گی بلکہ انہیں شوبز یونین سے بھی نکال دیا جائے گا۔

احمد شلاش کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے دفتر میں 23 ایرانی فلموں کی فارسی سے عربی میں ڈبنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ان میں ایک فیلم "سیرت امام کاظم" بھی شامل ہے۔ ہمارے ملک میں ترک ڈراموں کے لے اب کوئی جگہ نہیں۔ ہم انہیں ٹوائلٹ میں بہا دیں گے۔

خیال رہے کہ ایران فلم انڈسٹری کی جانب سے شام کے حوالے سے بھی کئی ڈرامے تیار کیے گئے ہیں۔ اس پربعض شامی فن کاروں نے اعتراض بھی کیا ہے۔ سنہ 2005ء میں شام کے کچھ فن کاروں نے ایران میں تیار ہونے والے فلموں اور ڈراموں میں فنکاروں کے لباس کو غیر مناسب اور عرب تہذیب کے منافی قرار دیا تھا۔ ایران میں تیار ہونے والے بیشتر فارسی فلموں کی عربی میں ڈبنگ اور انہیں شام اور لبنان میں پیش کرنے میں لبنانی حزب اللہ کا بھی ہاتھ ہے۔ حزب اللہ ان فلموں کی ترویج و پیش کش میں فن کاروں کے ساتھ بھرپور تعاون کرتی رہی ہے۔ تاہم شام میں عوام کی اکثریت ایرانی ڈراموں اور فلموں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے۔