.

ایران آیندہ ''شام امن مذاکرات'' میں فعال شرکت کرے گا

شام کی دفاعی شعبے کے علاوہ سیاسی میدان میں بھی حمایت کریں گے:علی اکبر ولایتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایک اعلیٰ مشیر نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام امن مذاکرات کے اگلے دور میں بھرپور طریقے سے شرکت کرے گا۔

عالمی طاقتوں اور ایران سمیت علاقائی ممالک کے درمیان 30 اکتوبر کو ویانا میں منعقدہ مذاکرات کے پہلے دور میں شامی تنازعے کے سیاسی حل کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔اس کے چند روز بعد ہی ایران نے مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس نے اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ ویانا مذاکرات کے دوران سعودی عرب نے منفی کردار ادا کیا تھا۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کے خارجہ امور کے مشیر اور سابق وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ ایران شام امن مذاکرات میں فعال انداز میں شرکت کرے گا۔انھوں نے ان مذاکرات میں شرکت کے لیے معیارات اور سرخ لکیروں کا بھی اعلان کیا ہے۔

ایران کی خبررساں ایجنسی تسنیم کی رپورٹ کے مطابق علی اکبر ولایتی نے کہا کہ '' ہم اپنے اتحادی شام کی دفاعی شعبے کے علاوہ سیاسی میدان میں بھی حمایت کریں گے''۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ شامی تنازعے پر مذاکرات کا آیندہ دور اسی ہفتے شروع ہوگا۔امن مذاکرات کے پہلے دور میں شرکاء شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے کسی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے تھے لیکن مذاکراتی میز پرسعودی عرب اور ایران کے وزرائے خارجہ پہلی مرتبہ مل بیٹھے تھے۔

ایران شامی صدر بشارالاسد کا سب سے بڑا حامی اور مدد گار ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی کے بعد ہونے والے انتخابات کے نتیجے ہی میں شامی صدر کی رخصتی کی حمایت کرسکتا ہے جبکہ مغرب اور سعودی عرب سمیت دوسرے علاقائی ممالک کا کہنا ہے کہ بشارالاسد شام میں پائیدار قیام امن کے لیے اقتدار سے فی الفور دستبردار ہوجائیں۔

واضح رہے کہ سیکڑوں ایرانی فوجی اس وقت صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ مل کر شمالی صوبے حلب میں باغیوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔اس کارروائی میں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجو بھی حصہ لے رہے ہیں اور انھیں روس کی فضائی مدد حاصل ہے۔ایران نے عراقیوں اور افغان جنگجوؤں پر مشتمل ملیشیاؤں کو بھی اسد حکومت کی حمایت میں باغیوں سے لڑنے کے لیے شام میں بھیجا ہوا ہے۔